بلوچ وائس فار جسٹس نے انسانی حقوق کی تنظیموں سے بلوچستان میں مظلوم خاندانوں کو ریاست کی جانب سے زبردستی پریس کانفرنسز کے ذریعے اپنے جبری لاپتہ پیاروں سے اظہار لاتعلقی کرانے پر مجبور کرنے کے اقدامات کی تحقیقات کرنے کا مطالبہ کیا ہے ۔
انسانی حقوق کے لیے سرگرم تنظیم بلوچ وائس فار جسٹس نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ گزشتہ کئی دنوں سے سوشل میڈیا پر ایسی ویڈیوز وائرل ہو رہی ہیں جن میں متعدد خاندان اپنے بھائیوں، بیٹوں اور دیگر رشتہ داروں سے لاتعلقی کا اعلان کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ یہ مناظر نہ صرف دل دہلا دینے والے ہیں بلکہ کئی سوالات کو بھی جنم دیتے ہیں۔ بظاہر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ بعض خاندان ریاستی دباؤ کے تحت اپنے جبراً لاپتہ پیاروں سے لاتعلقی کا اعلان کرنے پر مجبور کیے جا رہے ہیں اور یوں انجانے میں اُن کی زندگیوں کو مزید خطرے میں ڈال رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ خدشہ ہے کہ حکومت، انٹیلی جنس ایجنسیاں اور سی ٹی ڈی ان پریس کانفرنسوں اور لاتعلقی کے اعلانات کو جواز بنا کر ریاستی حراست میں موجود جبری لاپتہ افراد کو مفرور قرار دے سکتی ہیں اور بعد ازاں جعلی مقابلوں میں قتل کر کے انہیں مسلح مزاحمت کار ظاہر کیا جا سکتا ہے۔ اس طرح نہ صرف سچ کو مسخ کیا جائے گا بلکہ متاثرہ خاندانوں کی بے بسی کو بھی ایک سرکاری بیانیے کا حصہ بنا دیا جائے گا۔
بیان میں کہا گیا کہ یہ صورتحال محض چند بیانات یا اعلانات تک محدود نہیں بلکہ ایک گہری انسانی المیے کی عکاس ہے، جہاں خوف اور ریاستی کے ذریعے ایک ایسا ماحول تشکیل دی جارہی کہ جس میں سچ کی آواز دبتی چلی جارہی ہے۔ ایسے میں ضروری ہے کہ حقائق کی غیر جانبدارانہ تحقیق ہو اور قانون و انصاف کے تقاضوں کو ہر حال میں مقدم رکھا جائے۔
بلوچ وائس فار جسٹس ریاستی دباؤ کے تحت خاندانوں سے کروائی جانے والی پریس کانفرنسوں اور اپنے پیاروں سے لاتعلقی کے اعلانات کو ریاستی جبر قرار دیتے ہوئے انہیں یکسر مسترد کرتی ہے، بے بس اور مجبور خاندانوں کو خوف و ہراس اور دباؤ کے ذریعے میڈیا کے سامنے لا کر بیانات دلوانا انسانی وقار اور بنیادی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ بلوچ وائس فار جسٹس انسانی حقوق کی تنظیموں سے پُرزور اپیل کرتی ہے کہ وہ اس صورتحال کا فوری نوٹس لیں اور بلوچستان کے کٹھ پتلی وزیرِ اعلیٰ اور انٹیلیجنس ایجنسیوں کی جانب سے مظلوم خاندانوں کو زبردستی پریس کانفرنسز کرانے پر مجبور کرنے کے اقدامات کی غیر جانب دارانہ تحقیقات کریں۔ اظہارِ رائے کی آزادی اور انسانی حرمت کا تحفظ ہر مہذب معاشرے کی بنیادی ذمہ داری ہے اور کسی بھی خاندان کو جبر کے ذریعے اپنے ہی پیاروں سے لاتعلقی کا اعلان کروانا نہ صرف اخلاقی دیوالیہ پن بلکہ بنیادی انسانی حقوق کے اصولوں کی کھلی نفی ہے۔