سی ٹی ڈی کا کوئٹہ میں 8 مسلح افراد کی ہلاکت کا دعویٰ

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

بلوچستان کے مرکزی شہر کوئٹہ میں کاؤنٹر ٹیررازم ڈپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) نے درخشاں کے علاقے میں ایک مبینہ کارروائی میں فائرنگ کے تبادلے میں 8 مسلح افراد کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے ۔تاہم کراچی میں حالیہ متنازعہ مقابلے پر بھی سوالات برقرار ہیں ۔

ترجمان سی ٹی ڈی کے مطابق مقابلے کے دوران 3 اہلکار زخمی بھی ہوئے، جبکہ جائے وقوعہ سے اسلحہ اور گولہ بارود برآمد کیا گیا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ ہلاک افراد کا تعلق ایک کالعدم تنظیم سے ہونے کا شبہ ہے، تاہم اس حوالے سے مزید تحقیقات جاری ہیں۔

سی ٹی ڈی کے مطابق کارروائی خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر کی گئی، اور علاقے میں سرچ آپریشن بھی مکمل کر لیا گیا ہے۔

کوئٹہ کی تازہ کارروائی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب کراچی میں سی ٹی ڈی کی جانب سے 4 بلوچ نوجوانوں کی ہلاکت پر شدید سوالات اٹھ رہے ہیں۔

شاہ لطیف ٹاؤن میں 17 فروری کو ہونے والے اس مقابلے میں سی ٹی ڈی نے دعویٰ کیا تھا کہ چھاپے کے دوران مسلح افراد نے فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں جلیل، نیاز اور حمدان سمیت چار افراد مارے گئے۔

تاہم انسانی حقوق کے حلقوں اور متاثرہ خاندانوں کا مؤقف ہے کہ یہ نوجوان پہلے سے سی ٹی ڈی کی حراست میں تھے اور انہیں مبینہ طور پر جعلی مقابلے میں ہلاک کیا گیا۔

یہی افراد اس پریس کانفرنس میں پیش کیے گئے تھے جس میں سی ٹی ڈی حکام نے کراچی سے دو ہزار کلوگرام سے زائد بارودی مواد کی برآمدگی اور تین ملزمان کی گرفتاری کا دعویٰ کیا تھا۔

بعد ازاں انہی گرفتار نوجوانوں کی "نشاندہی” پر شاہ لطیف ٹاؤن میں چھاپہ مارنے کا دعویٰ کیا گیا، جہاں مبینہ فائرنگ کے تبادلے میں ان کی ہلاکت کی اطلاع دی گئی۔

ماضی میں بھی سی ٹی ڈی کی کارروائیوں پر اسی نوعیت کے سوالات اٹھتے رہے ہیں، جن میں جبری گمشدگیوں اور زیرِ حراست افراد کو مقابلوں میں مارنے کے الزامات شامل ہیں۔

کوئٹہ کی آج کی کارروائی کو سیکیورٹی حکام ایک بڑی کامیابی قرار دے رہے ہیں، تاہم کراچی کے حالیہ واقعے نے ایک بار پھر سی ٹی ڈی کے طریقۂ کار، شفافیت اور احتساب سے متعلق بحث کو تازہ کر دیا ہے۔

انسانی حقوق تنظیمیں مطالبہ کر رہی ہیں کہ کراچی میں ہونے والی ہلاکتوں کی آزادانہ تحقیقات کرائی جائیں تاکہ حقائق سامنے آ سکیں۔

Share This Article