بلوچ نیشنل موومنٹ کے رہنما رحیم بلوچ ایڈووکیٹ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ اماں حوری کی طرح ہزاروں بلوچ خاندان نہ صرف اپنے پیاروں کی محفوظ واپسی کے منتظر ہیں بلکہ اس کے لیے مسلسل جدوجہد بھی کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جبری گمشدگیاں آج بھی ایک جاری اور حل طلب بحران ہیں۔پاکستان کی مسلسل آنے والی حکومتیں فوج اور خفیہ اداروں کی تحویل سے لاپتہ افراد کو بازیاب کرنے میں ناکام رہی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اس کے برعکس، آواز اٹھانے والے خاندانوں اور کارکنوں کو دھمکیوں، قانونی ہراسانی اور من گھڑت مقدمات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ انسانی حقوق کے محافظ اور وکلاءجیسے ایمان مزاری ، ہادی علی چھٹہ ، ماہ رنگ بلوچ اور دیگرکو قانون نافذ کرنے والے اداروں اور عدالتی عمل کے غلط استعمال کے ذریعے نشانہ بنایا گیا اور جیلوں میں ڈالا گیا۔
رحیم بلوچ نے کہا کہ وکالت کی آواز کو دبانا مسئلے کا حل نہیں بنتا،یہ متاثرہ خاندانوں کے درد اور عدم اعتماد کو مزید گہرا کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی قانون جبری گمشدگیوں کی غیر جانبدارانہ تحقیقات اور ذمہ داروں کے احتساب کا تقاضا کرتا ہے۔ انصاف انتخابی نہیں ہو سکتا، اور استثنیٰ کو معمول نہیں بنایا جا سکتا۔
بیان میں کہا گیا کہ بامعنی پیش رفت اس وقت تک ممکن نہیں جب تک بین الاقوامی انسانی حقوق کے اداروں اور انسانی ہمدردی کی تنظیموں کی مسلسل توجہ اور دباؤ موجود نہ ہو۔