بلوچستان میں جبری لاپتہ افراد کے لواحقین پر ریاستی دباؤ اور زبردستی اظہارِ لاتعلقی کے واقعات میں حالیہ دنوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
ضلع کیچ کے علاقے الندور کے رہائشی فقیر محمد ولد مبارک نے بھی اسی سلسلے میں اپنے بیٹے سے لاتعلقی کا اعلان کیا ہے۔
فقیر محمد نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا کہ ان کا بیٹا عدنان ولد فقیر محمد کچھ عرصہ قبل گھر سے نکل کر کوئٹہ گیا تھا، جہاں جانے کے بعد اس کا خاندان سے رابطہ منقطع ہوگیا۔
انہوں نے الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کے ذریعے واضح کیا کہ اگر عدنان کسی غیر قانونی سرگرمی میں ملوث پایا گیا تو اس کے قول و فعل کے وہ اور ان کا خاندان ذمہ دار نہیں ہوں گے۔ فقیر محمد نے اپنے بیٹے سے لاتعلقی کا اعلان بھی کیا۔
بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کے متاثرہ خاندانوں کا کہنا ہے کہ انہیں سیکیورٹی اداروں اور حکومتی شخصیات کی جانب سے پریس کانفرنسوں کے ذریعے اپنے لاپتہ پیاروں سے لاتعلقی ظاہر کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔
خاندانوں کے مطابق یہ دباؤ اس پالیسی کے تحت بڑھا ہے جس میں آزادی پسند مسلح تنظیموں سے تعلق کے شبے میں لواحقین کو بھی ذمہ دار ٹھہرایا جا رہا ہے۔
بی ایل اے کی حالیہ کارروائیوں کے بعد بلوچستان میں سیکیورٹی صورتحال مزید سخت ہوئی ہے، اور اسی تناظر میں متعدد خاندانوں نے اجتماعی سزا کے خدشات کا اظہار کیا ہے۔
متاثرہ خاندانوں نے بتایا کہ وہ پہلے ہی اپنے پیاروں کی جبری گمشدگی کے باعث ذہنی اذیت میں مبتلا تھے، تاہم اب انہیں زمین و جائیداد ضبط ہونے، سرکاری ملازمت سے برطرفی اور دیگر نتائج کی دھمکیوں کے باعث پریس کانفرنسوں میں اظہارِ لاتعلقی پر مجبور کیا جا رہا ہے۔
گذشتہ روز کوئٹہ اور تربت میں چار مختلف خاندانوں نے پریس کلبز میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے اپنے لاپتہ عزیزوں سے لاتعلقی کا اعلان کیاتھا ۔یہ سلسلہ گزشتہ ایک ہفتے سے جاری ہے، جس دوران بلوچستان کے مختلف علاقوں میں متعدد خاندان ریاستی دباؤ کے پیش نظر پریس کلبز کا رخ کر چکے ہیں۔