سی ٹی ڈی کے ایک اور جعلی مقابلے میں بارکھان میں 6 جبری لاپتہ افراد قتل

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

سی ٹی ڈی نے ایک اور جعلی مقابلے میں بلوچستان کے علاقے بارکھان میں 6 جبری لاپتہ افرادکو ماورائے عدالت قتل کردیاہے۔

سی ٹی ڈی (کاؤنٹر ٹیررزم ڈیپارٹمنٹ) نے دعویٰ کیا ہے کہ خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر بلوچستان کے علاقے بارکھان میں ایک کارروائی کرتے ہوئے 6 مسلح افراد کو ہلاک کیا گیا، جبکہ فائرنگ کے تبادلے میں سیکیورٹی فورسز کے تمام اہلکار محفوظ رہے۔

بارکھان کے اسپتال میں 6 لاشیں لائی گئی ہیں جن کے بارے میں سی ٹی ڈی کا دعویٰ تھا کہ انہیں مقابلے میں مارا گیا ہے۔

رکھنی اسپتال میں لائی گئی ان 6 لاشوں میں سے 3 کی شناخت ہوگئی ہے، جن میں جنوری 2024 کو جھل مگسی سے جبری گمشدگی کا نشانہ بننے والے اکبر ولد نواب خان ڈومکی، بڈھا ولد محمد مراد لاشاری اور مکھن ولد مرید لاشاری شامل ہیں۔

اکبر ولد نواب خان ڈومکی اس سے قبل 2022 میں اپنے بھائی جوسف کے ہمراہ جبری گمشدگی کا شکار بنے تھے، جہاں بعد ازاں ان کے بھائی جوسف کو نصیر آباد نوتال میں سی ٹی ڈی نے ایک جعلی مقابلے میں قتل کردیا تھا۔

دونوں بھائیوں کی جبری گمشدگی اور بعد ازاں ایک بھائی کے جعلی مقابلے میں قتل کی تصدیق بلوچ لاپتہ افراد کے لواحقین کی تنظیم وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز نے اکتوبر 2022 میں کردی تھی، جبکہ اکبر کو 2024 میں دوبارہ جبری گمشدگی کے بعد آج قتل کردیا گیا ہے۔

رکھنی اسپتال میں لائی گئی مزید تین لاشوں کی شناخت تاحال نہیں ہوسکی، تاہم خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ وہ بھی پہلے سے جبری لاپتہ افراد ہوں گے۔

یاد رہے کہ حالیہ دنوں میں سی ٹی ڈی کی جانب سے ایک بار پھر جعلی مقابلوں میں پہلے سے زیرحراست اور جبری لاپتہ افراد کو قتل کرنے کے واقعات میں شدت آئی ہے، جہاں صرف دو روز میں 18 افراد کو جعلی مقابلوں میں قتل کیا گیا ہے۔

اس سے قبل، کوئٹہ میں 8 افراد اور گزشتہ روز کراچی میں 3 افراد کو مبینہ جعلی مقابلے میں ہلاک کیا گیا۔ کراچی میں ہلاک کیے گئے افراد کی شناخت پہلے سے زیر حراست افراد کے طور پر کی گئی تھی۔

انسانی حقوق کی تنظیموں اور مقامی مبصرین کے مطابق، ماضی میں بھی سی ٹی ڈی کی متعدد کارروائیوں کو مشکوک قرار دیا گیا ہے، جہاں مبینہ مقابلوں کے نام پر پہلے سے لاپتہ افراد کو ہلاک کیا گیا۔ بلوچستان میں طویل عرصے سے جبری گمشدگیوں اور ماورائے عدالت قتل کے الزامات ریاستی اداروں سے منسلک رہے ہیں۔

Share This Article