بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی ) نے کراچی کے علاقے شاہ لطیف ٹاؤن میں کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کے ہاتھوں مبینہ مقابلے میں ہلاک کیے گئے 24 سالہ طالبعلم ہمدان ولد محمد علی کے واقعے پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ہمدان 29 دسمبر 2025 سے جبری طور پر لاپتہ تھے اور ان کے اہلِ خانہ کے مطابق انہیں ڈبی گوٹھ، گولیمار سےسی ٹی ڈی اہلکاروں نے حراست میں لیا تھا۔
بی وائی سی کے مطابق ہمدان کی گمشدگی کے بعد ان کے خاندان کو ان کی حالت یا مقام کے بارے میں کوئی معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔ کئی ہفتوں بعد سی ٹی ڈی نے اعلان کیا کہ ہمدان ایک مسلح مقابلے میں مارے گئے افراد میں شامل تھے، تاہم کمیٹی کا کہنا ہے کہ ہمدان دسمبر 2025 سے ہی ریاستی تحویل میں تھے، جس سے اس مقابلے کی شفافیت اور قانونی حیثیت پر سنگین سوالات جنم لیتے ہیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ کراچی اور بلوچستان میں اس نوعیت کے واقعات مسلسل سامنے آ رہے ہیں، جن میں نوجوانوں کو حراست میں لینے کے بعد مبینہ جعلی مقابلوں میں ہلاک ظاہر کیا جاتا ہے۔
بی وائی سی کے مطابق یہ طرزِ عمل ماورائے عدالت قتل اور جبری گمشدگیوں کے جاری سلسلے کی نشاندہی کرتا ہے، جسے انسدادِ دہشت گردی کے نام پر چھپایا جاتا ہے۔
کمیٹی نے واضح کیا کہ اگر کوئی شخص پہلے سے ریاستی تحویل میں ہو اور بعد میں اسے مسلح جھڑپ میں ہلاک دکھایا جائے تو یہ بین الاقوامی انسانی حقوق کے قوانین، خصوصاً بین الاقوامی عہدنامہ برائے شہری و سیاسی حقوق (ICCPR) کے آرٹیکل 6 اور 9، کی سنگین خلاف ورزی ہے۔
بی وائی سی نے بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں اور انسانی ہمدردی کے اداروں سے فوری مداخلت کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں نوجوانوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، مسخ شدہ لاشیں برآمد ہو رہی ہیں، اور سی ٹی ڈی ، ریاستی پشت پناہی رکھنے والے گروہوں اور سیکیورٹی فورسز کے ہاتھوں مبینہ جعلی مقابلوں میں ہلاکتوں کا سلسلہ جاری ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ جب تک آزادانہ تحقیقات اور مؤثر احتساب کا نظام قائم نہیں ہوتا، اس تشدد اور استثنا کا سلسلہ رکنے کا امکان نہیں۔