بلوچ لبریشن آرمی( بی ایل اے) کے ترجمان جیئند بلوچ نے میڈیا کو جاری کردہ اپنے ایک بیان میں تجابان، پنجگور اور تربت حملوں میں پاکستانی فوج کے 8 اہلکاروں کی ہلاکت اور جاسوسی کے آلات تباہ کرنے کی ذمہ داری قبول کرلی۔
ترجمان نے کہا کہ بلوچ لبریشن آرمی کے سرمچاروں نے تجابان، پنجگور اور تربت میں قابض پاکستانی فوج اور اس کے جاسوسی آلات کوحملوں میں نشانہ بنایا۔ قابض فوج پر آئی ای ڈی اور مسلح حملے کیئے گئے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ بلوچ لبریشن آرمی کے سرمچاروں نے تئیس دسمبر کو کیچ کے علاقے تجابان میں قابض پاکستانی فوج کے ایک پوسٹ کو حملے میں نشانہ بنایا، سرمچاروں نے خودکار ہتھیاروں کا استعمال کیا اور گرنیڈ لانچر سے قابض فوج کی پوزیشنوں پر متعدد گولے داغے گئے۔ حملے کے دوران قابض فوج کے دو اہلکار موقع پر ہلاک ہوگئے اور اسے مزید نقصانات کا سامنا کرنا پڑا۔ سرمچاروں نے کیمپ میں نصب سرویلنس کیمروں کو بھی تباہ کردیا۔
بیان میں کہا گیا کہ بی ایل اے کے سرمچاروں نے پچیس دسمبر کو پنجگور کے علاقے کاٹگری میں سی پیک روٹ پر قابض پاکستانی فوج کی ایک گاڑی کو اس وقت ریموٹ کنٹرول آئی ای ڈی حملے میں نشانہ بنایا، جب وہ مختلف مقامات سے اپنے اہلکاروں کو پکٹ سیکیورٹی کے بعد واپس لے جارہی تھی، دھماکے کے نتیجے میں قابض فوج کے چھ اہلکار ہلاک اور مزید چار زخمی ہوگئے جبکہ ان کی گاڑی کو شدید نقصان پہنچا۔
انہوں نے کہا کہ بلوچ لبریشن آرمی کے سرمچاروں نے آج تربت کے علاقے ڈنک میں قابض پاکستانی فوج کے زیر استعمال مواصلاتی ٹاور کو دھماکہ خیز مواد نصب کرکے تباہ کردیا اور اس پر نصب جاسوس کیمروں کو بھی نشانہ بنایا گیا، جو فعال تھے۔
آخر میں ان کا کہنا تھا کہ بلوچ لبریشن آرمی ان حملوں کی ذمہ داری قبول کرتی ہے۔