حب سے جبری لاپتہ بلوچ خاتون کے ساتھ اس کا 2 سالہ بچہ بھی لاپتہ

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

بلوچستان کے صنعتی شہر حب چوکی سے گذشتہ دنوں پاکستانی فورسز کے ہاتھوں ایک بلوچ خاتون کی جبری گمشدگی کا واقعہ رپورٹ ہوا تھا۔ اب اطلاعات ہیں کہ مذکورہ خاتون کے ساتھ اس کا 2 سالہ بچہ بھی لاپتہ کیا گیا ہے۔

18 دسمبر 2025 بروز جمعرات کور ات 10 بجے ایف سی اور آئی ایس آئی کے اہلکاروں نے حب چوک میں واقع دارو ہوٹل، زہری گوٹ میں ایک گھر پر چھاپہ مارا اور 27 سالہ ایک بلوچ خاتون کو زبردستی اپنے ہمراہ لے گئے جس کے بعد سے وہ لاپتہ ہیں۔

جبری گمشدگی کا نشانہ بنائے گئے خاتون کی شناخت عذرہ بلوچ بنت عطا محمد کے نام سے ہوئی جو ثنااللہ نامی شخص کے اہلیہ ہیں۔

اب اطلاعات ہیں کہ خاتون کے ساتھ ساتھ اس کے 2 سالہ بچے کو بھی جبری گمشدگی کا نشانہ بنایا گیا ہے ۔

بچے کی شناخت براہمدگ ولد ثنا اللہ کے نام سے ہوئی ہے ۔بی وائی سی نے اس کی باقاعد ہ تصدیق کی ہے ۔

اغوا کے بعد سے ان کے بارے میں کوئی معلومات سامنے نہیں آ سکیں، جس کے باعث اہلِ خانہ شدید تشویش اور اضطراب کا شکار ہے ۔

یاد رہے کہ اس سے قبل 22 نومبر 2025 کو بھی آواران کی رہائشی 15 سالہ لڑکی نسرین بلوچ بنت دلاور کو حب چوک میں واقع دارو ہوٹل سے فو رسز نے گھر پر چھاپہ مارکر حراست میں لیکر جبری گمشدگی کا نشانہ بنایا تھا جس کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا۔اور نہ ہی اب تک اس کی ایف آئی درج کرلی گئی ہے ۔

Share This Article