بلوچستان کے ضلع لسبیلہ کے صدر مقام اوتھل سے تقریباً 150 کلومیٹر دور ہنگول کے دشوار گزار پہاڑی سلسلے میں واقع ہندو دھرم کے عالمی سطح پر تیسرے بڑے اور تاریخی “ہنگلاج نانی مندر” کا تین روزہ سالانہ میلہ تمام تر رعنائیوں اور مذہبی رسومات کے ساتھ اختتام پذیر ہو گیا۔
رواں برس میلے میں بلوچستان اور پاکستان بھر سے ریکارڈ 2 لاکھ کے قریب ہندو عقیدت مندوں اور یاتریوں نے شرکت کی، جو کہ بین المذاہب ہم آہنگی اور عقیدت کی ایک منفرد مثال ہے۔
پی ڈی ایم اے کی جانب سے مستحق یاتریوں میں راشن بیگز اور دیگر ضروری سامان تقسیم کیا گیا۔
ڈپٹی کمشنر لسبیلہ حمیرا بلوچ اور ایس ایس پی نجیب اللہ پندرانی خود میلے میں موجود رہے اور تمام تر انتظامی و سیکیورٹی امور کی نگرانی کی۔زائرین کی حفاظت کے لیے سیکورٹی کے دستے تعینات تھے جنہوں نے فول پروف سیکیورٹی فراہم کی۔
انسانی ہمدردی کے تحت پاکستان کوسٹ گارڈز، PPHI اور محکمہ صحت لسبیلہ کی جانب سے فری میڈیکل کیمپس قائم کئے گئے تھے۔جہاں ماہر ڈاکٹرز اور لیڈی ڈاکٹرز نے سینکڑوں یاتریوں کا طبی معائنہ کیا اور مفت ادویات فراہم کیں۔
شری ہنگلاج ماتا ویلفیئر منڈلی کے زیرِ اہتمام زائرین کے لیے 24 گھنٹے “بھنڈارے” (لنگر) کا وسیع انتظام تھا، جہاں کھانا، ٹھنڈا پانی، شربت اور چائے بلا تعطل فراہم کی جا رہی تھی۔
منڈلی کے عہدیداران جن میں صدر مکھی ونود کمار لاسی، جنرل سیکریٹری ویرسی مل کیڈیوانی، ڈاکٹر تولا رام لاسی اور ترجمان پرکاش کمار لاسی اور دیگر سینکڑوں رضاکاروں کے ہمراہ شب و روز یاتریوں کی خدمت میں مصروف رہے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ترجمان پرکاش کمار لاسی نے بتایا کہ ہزاروں عقیدت مند صوبہ سندھ کے مختلف شہروں سے شدید گرمی میں کئی روز کا پیدل سفر طے کر کے ماتا کے دربار پر حاضری دیتے ہیں اور من کی مرادیں پاتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یاتریوں کی تعداد میں ریکارڈ اضافہ اس مقدس مقام سے ان کی گہری وابستگی کا ثبوت ہے۔
میلے کے دوران مختلف سیاسی و سماجی شخصیات نے بھی مندر کا دورہ کیا اور پوجا پاٹ میں شرکت کی۔
ان میں جمعیت علمائے اسلام کے مرکزی رہنما سابق ایم پی اے بلوچستان مکھی شام لعل لاسی، گورنر سندھ کے کوآرڈینیٹر وشال پلیانی اور رکن صوبائی اسمبلی سنجے کمار سمیت دیگر اہم شخصیات شامل تھیں۔
میلے میں سینکڑوں اسٹالز لگائے گئے تھے جہاں مذہبی تبرکات، بیجز اور روایتی اشیاء کی فروخت جاری رہی۔مقدس رسومات کی ادائیگی کے بعد یاتری اپنی مرادیں پانے کی دعائیں مانگتے ہوئے اپنے اپنے علاقوں کی جانب روانہ ہو گئے۔