پانچ کارروائیوں میں 14 فوجی اہلکار ہلاک، کواڈ کاپٹر تباہ اور کوسٹل ہائی وے پر ناکہ بندی کی،بی ایل ایف

ایڈمن
ایڈمن
6 Min Read

بلوچستان لبریشن فرنٹ( بی ایل ایف) کے ترجمان میجر گہرام بلوچ نے میڈیا کو جاری اپنے ایک بیان میں پانچ مختلف کارروائیوں میں 14 فوجی اہلکاروں کی ہلاکت ، حملے میں فوجی کواڈ کاپٹر تباہ کرنے اور کوسٹل ہائی وے پر ناکہ بندی کی ذمہ داری قبول کرلی۔

ترجمان کے مطابق بلوچستان لبریشن فرنٹ کے سرمچاروں نے 15 اپریل 2026 کو آواران کے علاقے جھاؤ میں سیڑھ کے مقام پر قابض پاکستانی فوج کے ایک بڑے قافلے کو ایک مربوط اور مہلک حملے میں نشانہ بنایا۔ یہ فوجی قافلہ آواران سے جھاؤ کی جانب پیش قدمی کر رہا تھا کہ پہلے سے پوزیشن سنبھالے ہوئے سرمچاروں نے حملہ کرکے اسے نشانہ بنایا۔

ترجمان نے کہا کہ سرمچاروں نے دشمن فوج کے قافلے پر چاروں اطراف سے راکٹ لانچرز، ایل ایم جی اور دیگر خودکار بھاری ہتھیاروں سے شدید حملہ کیا۔ دشمن فوج کی تین گاڑیاں حملے کی زد میں آکر مکمل طور پر ناکارہ ہو گئیں جس کے نتیجے میں ان گاڑیوں میں سوار 10 فوجی اہلکار موقع پر ہلاک، جبکہ متعدد دیگر زخمی ہوئے ہیں۔ کارروائی کے دوران دشمن نے سرمچاروں کی پوزیشن پر کواڈ کاپٹر کے ذریعے فضائی حملہ کرنے کی کوشش کی، تاہم مستعد سرمچاروں نے بروقت جوابی کارروائی کرتے ہوئے پے در پے فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں دشمن کا کواڈ کاپٹر تباہ ہو کر گر گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ایک اور کارروائی میں سرمچاروں نے 18 اپریل 2026 کو تربت کے علاقے نودز میں قابض پاکستانی فوج کے تین گاڑیوں پر مشتمل ایک قافلے کو نشانہ بنایا۔ یہ کارروائی اس وقت انجام دی گئی جب دشمن کا قافلہ علاقے میں اپنی نقل و حرکت کے لیے راستہ صاف کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ حملے کے آغاز میں سرمچاروں نے قافلے کی سیکیورٹی کلیئرنس کی غرض سے راستہ چیک کرنے میں مصروف بم ڈسپوزل اسکواڈ کے دو اہلکاروں کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں وہ دونوں موقع پر ہی ہلاک ہو گئے۔ بعدازاں قافلے میں شامل تینوں فوجی گاڑیوں پر خودکار ہتھیاروں سے حملہ کیا گیا، جس کے نتیجے میں مزید ایک اہلکار ہلاک اور دو زخمی ہو گئے۔ حملے میں گاڑیوں کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایک اور کارروائی میں سرمچاروں نے 18 اپریل 2026 کو خضدار کے علاقہ بازگیر میں قائم فرنٹیئر کور (ایف سی) کے ٹریننگ سینٹر پر ہینڈ گرنیڈ سے حملہ کیا۔ سرمچاروں نے ایف سی کے رہائشی کوارٹرز پر دستی بم سے حملہ کیا جو زوردار دھماکے سے پھٹ گیا جس کے نتیجے میں دشمن کو کافی نقصان پہنچا اور دشمن کے خوفزدہ اہلکاروں نے ہر طرف شدید فائرنگ کی۔

تنظیم کے مطابق ایک اور کارروائی میں سرمچاروں نے 17 اپریل 2026 کو آواران کے علاقے کولواہ میں کینچی کے مقام پر قائم پاکستانی فوج کے چوکی کو مربوط حملے میں نشانہ بنایا۔ تھرمل اسکوپ استعمال کرتے ہوئے دشمن فوج کے 1 اہلکار کو ہلاک کیا۔ سرمچاروں کے دیگر دستوں نے چوکی پر خودکار اور بھاری ہتھیاروں سے حملہ کر کے دشمن کو جانی و مالی نقصان پہنچایا۔

ترجمان نے کہا کہ اسی طرح ایک اور کارروائی میں سرمچاروں نے 17 اپریل 2026 کو دوپہر تقریباً تین بجے پسنی کے علاقے شتنگی میں مکران کوسٹل ہائی وے پر ایک منظم ناکہ بندی کی۔ سرمچاروں نے شاہراہ کے ایک بڑے حصے پر مکمل عسکری کنٹرول حاصل کرتے ہوئے دشمن کی ہر قسم کی نقل و حرکت کو روکے رکھا۔ ناکہ بندی کے دوران گاڑیوں کی کڑی نگرانی اور سخت اسنیپ چیکنگ کی گئی۔ اس کارروائی کا مقصد مقبوضہ بلوچستان کی مرکزی شاہراہوں پر قابض ریاست کی نام نہاد رٹ کو چیلنج کرنا اور دشمن کی مشکوک فوجی نقل و حرکت پر نظر رکھنا تھا۔ تزویراتی مقاصد کے حصول کے بعد سرمچار بحفاظت اپنے ٹھکانوں کی جانب منتقل ہو گئے۔

ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان لبریشن فرنٹ عوام اور شاہراہوں پر سفر کرنے والے مسافروں سے اپیل کرتی ہے کہ وہ سرمچاروں کی جانب سے کی جانے والی ناکہ بندیوں اور چیکنگ کے دوران مکمل تعاون کو یقینی بنائیں۔ ہم یہ واضح کر دینا چاہتے ہیں کہ ناکہ بندی کے دوران سرمچاروں کی ہدایات پر عمل کرنا آپ کی اپنی حفاظت کے لیے ضروری ہے۔ اگر کوئی فرد یا گاڑی ناکہ بندی کی خلاف ورزی کرتی ہے، یا تعاون کرنے کے بجائے مشکوک رویہ اختیار کرتی ہے، تو سرمچار اسے دشمن یا دشمن کا سہولت کار تصور کرتے ہوئے کارروائی کرنے میں حق بجانب ہوں گے۔ ایسی صورت میں ہونے والے کسی بھی جانی یا مالی نقصان کے ذمہ دار متعلقہ افراد خود ہوں گے۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ بلوچستان لبریشن فرنٹ ان پانچ کارروائیوں، جھاؤ اور تربت میں فوجی قافلوں پر حملے، مکران کوسٹل ہائی وے پر ناکہ بندی، خضدار میں ہینڈ گرنیڈ اور کولواہ میں فوجی کیمپ کو نشانہ بنانے کی ذمہ داری قبول کرتی ہے۔

Share This Article