بارکھان کا واقعہ بلوچ اجتماعی حافظے کا مستقل حصہ بن کر قابض کے لیے قہر ثابت ہوگا، ڈاکٹر نسیم بلوچ

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

بلوچ نیشنل موومنٹ کے چیئرمین ڈاکٹر نسیم بلوچ نے کہا ہے کہ بارکھان میں ایک ہی خاندان کے بارہ نہتے اور معصوم افراد کا وحشیانہ قتل، پاکستانی فوج کی طرف سے بلوچستان کے عوام پر ڈھائے جانے والے بے لگام تشدد کا سلسلہ ہے۔ یہ کوئی اچانک ہونے والا واقعہ نہیں بلکہ یہ بلوچ قوم پر اس جبر کا حصہ ہے جو ہم اٹھہتر سالوں سے سہہ رہے ہیں۔ یہ ایک واضح ریاستی دہشت گردی ہے جس میں نہتے لوگوں کو ہدف بناکر قتل کیا گیا۔

انہوں نے کہا ایک خانہ بدوش مری خاندان، جو ایک ہجرت کے دوران نہر کوٹ روڈ پر سفر کر رہا تھا، کو پاکستانی فوج نے براہ راست فائرنگ کا نشانہ بنایا۔ قتل ہونے والوں میں عورتیں، بچے اور بوڑھے شامل تھے- یہ وہ لوگ تھے جن کے پاس کوئی ہتھیار نہیں تھا، یہ مجبور اور تنگ دست خانہ بدوش تھے، ان کا واحد جرم ان کی شناخت تھا۔

ڈاکٹر نسیم بلوچ نے کہا ایک ہی خاندان کے بارہ افراد کا قتل دل دہلانے والا ہے۔ ماں، باپ، بیٹے اور بیٹیوں کا قتل، ایک ہی حملے میں تین نسلوں کو نشانہ بنانا، بلوچ نسل کشی کے سلسلے کا ایک ایسا دردناک واقعہ ہے جو بلوچ اجتماعی حافظے کا مستقل حصہ بن کر قابض کے لیے قہر ثابت ہوگا۔

انہوں نے کہا علی ولد سلطان عمیر( چالیس سالہ)بیبل زوجہ علی( تیس سالہ)میر جان ولد علی( دو سالہ)بالاچ ولد سبزو( ستر سالہ)سومری دختر بھنگان و زوجہ بالاچ( پینتیس سالہ)سادو دختر بالاچ( تیرہ سالہ)اللہ بخش ولد بالاچ( چھ سالہ)ہاپو دختر بالاچ( آٹھ سالہ)مہرنگ دختر بالاچ( دو سالہ)رحمان ولد بالاچ( اٹھارہ سالہ)نائخو دختر جمالان و زوجہ رحمان( سترہ سالہ)اور شاری( بائیس سالہ) کا قتل ایک جنگی جرم ہے۔ یہ قومی آزادی کے سفر میں ناقابل دکھ کی داستان ہے۔ بلوچ اپنے لہو کا حساب لے گا۔

Share This Article