جبری گمشدگیوں کے خلاف وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز (وی بی ایم پی) کے زیر اہتمام کوئٹہ پریس کلب کے سامنے قائم احتجاجی کیمپ 6139ویں روز بھی جاری رہا۔
اس موقع پر بلوچ طالب علم سہیل بلوچ کے بھائی جمیل بلوچ نے کیمپ کا دورہ کیا اور اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا۔
جمیل بلوچ نے کہا کہ ان کے بھائی سہیل احمد ولد لعل محمد اور ان کے دوست فصیح اللہ ولد سید عبدالرؤف شاہ کو یکم نومبر 2021 کو بلوچستان یونیورسٹی سے جبری طور پر لاپتہ کیا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ دونوں طلبہ بلوچستان یونیورسٹی میں مطالعہ پاکستان (بی ایس) کے طالب علم تھے اور بوائز ہاسٹل میں مقیم تھے، جہاں سے انہیں مبینہ طور پر اداروں کے اہلکاروں نے حراست میں لے کر لاپتہ کردیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس جبری گمشدگی کا معاملہ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق میں بھی زیرِ بحث آیا، تاہم کوئی نتیجہ برآمد نہ ہوسکا اور کیس کو لاپتہ افراد کمیشن کے حوالے کردیا گیا، جہاں اب یہ کیس زیر سماعت ہے۔
انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کمیشن کی جانب سے کیس کو بند کرنے کی بات کی جا رہی ہے۔
جمیل بلوچ نے بتایا کہ بلوچستان حکومت نے اس معاملے پر وزیر عبدالرحمن کھتران کی سربراہی میں ایک کمیٹی بھی تشکیل دی تھی، جس نے 15 دن میں پیش رفت کی یقین دہانی کرائی تھی، مگر پانچ سال گزرنے کے باوجود نہ کوئی عملی اقدام اٹھایا گیا اور نہ ہی کمیٹی کے سربراہ کمیشن کے سامنے پیش ہوئے، باوجود اس کے کہ انہیں متعدد بار نوٹسز جاری کیے گئے۔
انہوں نے کہا کہ وہ گزشتہ پانچ سالوں سے انصاف کے حصول کے لیے ہر دروازہ کھٹکھٹا رہے ہیں، لیکن نہ ان کے بھائی اور ان کے ساتھی کو بازیاب کرایا گیا اور نہ ہی ان کی خیریت کے بارے میں کوئی معلومات فراہم کی گئی، جس کی وجہ سے ان کے خاندان شدید ذہنی اذیت اور کرب کا شکار ہیں۔
اس موقع پر وی بی ایم پی کے چیئرمین نصراللہ بلوچ نے جمیل بلوچ کو یقین دہانی کرائی کہ تنظیم سہیل اور فصیح سمیت تمام بلوچ طلبہ کے کیسز کو قانونی دائرے میں رہتے ہوئے ہر فورم پر اٹھائے گی اور ان کی بحفاظت بازیابی کے لیے آواز بلند کرتی رہے گی۔
نصراللہ بلوچ نے کہا کہ پانچ سال گزرنے کے باوجود ان طلبہ کی بازیابی نہ ہونا حکومت اور انصاف فراہم کرنے والے اداروں کی کارکردگی پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس طرح کے اقدامات سے عوام کا اعتماد ریاستی اداروں پر کمزور ہو رہا ہے اور یہ تاثر پیدا ہو رہا ہے کہ یہ ادارے بااختیار حلقوں کے سامنے بے بس ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ عوام کا اعتماد بحال کرنے کے لیے ضروری ہے کہ تمام ادارے قانون کی پاسداری کریں اور شہریوں کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف مؤثر اقدامات اٹھائیں، تاکہ لوگوں کو فوری اور سستا انصاف فراہم کیا جا سکے۔
آخر میں نصراللہ بلوچ نے سہیل، فصیح اور دیگر تمام لاپتہ افراد کی فوری بازیابی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر کسی پر کوئی الزام ہے تو انہیں عدالتوں میں پیش کیا جائے، تاکہ ان کے اہل خانہ کو اس اذیت ناک صورتحال سے نجات مل سکے۔