اورماڑہ: بحرہ بلوچ میں بدترین غیر قانونی فشنگ، ماہی گیر برادری کا شدید احتجاج

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

بلوچستان کے ضلع گوادر کی تحصیل اورماڑہ کی سمندری حدود بحرہ بلوچ میں گزشتہ تین روز سے بڑے پیمانے پر غیر قانونی ٹرالنگ جاری ہے، جس نے مقامی ماہی گیروں اور ماحولیاتی ماہرین کو شدید تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔

مقامی ماہی گیروں اور سماجی کارکنان نے متعدد ویڈیوز جاری کی ہیں جن میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ بڑے ٹرالرز دن دیہاڑے سمندر میں داخل ہو کر قیمتی آبی حیات کو بے دریغ تباہ کر رہے ہیں۔

مقامی ماہی گیروں کا کہنا ہے کہ ٹرالنگ پر پابندی کے باوجود بڑے ٹرالرز بلا خوف و خطر سرگرم ہیں، جبکہ متعلقہ حکام اور محکمہ فشریز کی موجودگی کے باوجود کوئی کارروائی سامنے نہیں آ رہی۔

ماہی گیروں نے سوال اٹھایا ہے کہ کیا سمندری وسائل کا تحفظ صرف کاغذی دعوؤں تک محدود ہے؟۔کیا بااثر عناصر کی پشت پناہی نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بے بس کر دیا ہے؟۔

سماجی کارکنان نے بھی صورتحال کی تصدیق کرتے ہوئے حکومت بلوچستان اور محکمہ فشریز سے فوری اور سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

اورماڑہ کے مقامی ماہی گیر، جو چھوٹی کشتیوں کے ذریعے روزگار کماتے ہیں، اس غیر قانونی ٹرالنگ کے باعث شدید معاشی بدحالی کا شکار ہو رہے ہیں۔

ان کے مطابق بڑے ٹرالرز سمندر کی تہہ تک جال پھینک کر ہر قسم کی آبی حیات کو تباہ کر دیتے ہیں۔چھوٹے ماہی گیروں کے لیے مچھلی کا حصول تقریباً ناممکن ہوتا جا رہا ہے۔روزگار کے ساتھ ساتھ سمندری ماحولیاتی توازن بھی تباہی کے دہانے پر ہے۔

ماہرین کے مطابق اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو سمندری حیات کی کئی اقسام مکمل طور پر ختم ہو سکتی ہیں۔ہزاروں خاندانوں کا معاشی مستقبل تاریک ہو جائے گا۔بلوچستان کے ساحلی علاقوں میں ماہی گیری کی صنعت شدید بحران کا شکار ہو سکتی ہے۔

مقامی آبادی کا کہنا ہے کہ تین دن سے جاری اس سنگین خلاف ورزی کے باوجود نہ تو کوئی ٹرالر روکا گیا اور نہ ہی کوئی کارروائی سامنے آئی ہے، جو حکومتی سنجیدگی پر بڑا سوالیہ نشان ہے۔

Share This Article