حب چوکی سے ایک اور بلوچ خاتون پاکستانی فورسزہاتھوں جبری لاپتہ

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

بلوچستان کے صنعتی شہر حب چوکی میں پاکستانی فورسز نے ایک اور بلوچ خاتون کو حراست میں لینے کے بعد جبری طور پر لاپتہ کر دیا ہے۔

حب چوکی سے آمدہ اطلاعات کے مطابق 18 دسمبر 2025 بروز جمعرات شام کے وقت سی ٹی ڈی اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں نے حب چوک میں واقع دارو ہوٹل، زہری گوٹ میں چھاپہ مارا، جہاں موجود ایک بلوچ خاتون کو زبردستی اپنے ہمراہ لے گئے۔

ذرائع کے مطابق لاپتہ ہونے والی خاتون کی شناخت عذرہ بلوچ کے نام سے ہوئی ہے، جو ثناءاللہ نامی شخص کی اہلیہ ہیں۔

اغوا کے بعد سے ان کے بارے میں کوئی معلومات سامنے نہیں آ سکیں، جس کے باعث اہلِ خانہ شدید تشویش اور اضطراب کا شکار ہے ۔

یاد رہے کہ اس سے قبل 22 نومبر 2025 کو بھی آواران کی رہائشی 15 سالہ لڑکی نسرین بلوچ بنت دلاور کو حب چوک میں واقع دارو ہوٹل سے فو رسز نے گھر پر چھاپہ مارکر حراست میں لیکر جبری گمشدگی کا نشانہ بنایا تھا جس کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا۔اور نہ ہی اب تک اس کی ایف آئی درج کرلی گئی ہے ۔

سیاسی و انسانی حقوق کارکنان تنظیموں اور سول سوسائٹیز نے ریاستی فورسز کے ہاتھوں ماورائے آئین و قانون بلوچ خواتین کی جبری گمشدگیوں اور انہیں نشانہ بنانے کے عمل کو شدید تشویشناک قرار دیتے ہوئے کہاکہ یہ اقدامات بین الاقوامی انسانی حقوق کے قوانین کی صریح خلاف ورزی ہیں، اور ذمہ دار اداروں کو اس پر جوابدہ بنانا چاہیے۔

Share This Article