بلوچستان کے ضلع گوادر کی تحصیل جیونی کے علاقے پانوان میں گزشتہ شب پاکستانی فورسز نے تین بلوچ نوجوانوں کو ان کے گھروں سے حراست میں لینے کے بعد جبری لاپتہ کر دیا ہے۔
مقامی ذرائع کے مطابق لاپتہ کیے گئے نوجوانوں کی شناخت نادل ولد نعیم، سہیل ولد کریم اور فیضان ولد فضل کے ناموں سے ہوئی ہے، جو پانوان کوہ سر کے رہائشی بتائے جاتے ہیں۔
خاندانی ذرائع کا کہنا ہے کہ فورسز نے رات گئے گھروں پر چھاپے مار کر نوجوانوں کو حراست میں لیا، جس کے بعد سے ان کا کوئی سراغ نہیں مل سکا۔
واقعے کے بعد علاقے میں خوف و بے چینی کی فضا برقرار ہے۔
مقامی افراد کے مطابق فیضان ولد فضل اس سے قبل بھی کراچی کے علاقے شرافی گوٹھ سے لاپتہ کیے گئے تھے، اور یہ ان کی گمشدگی کا دوسرا واقعہ ہے۔
خاندان کا کہنا ہے کہ پہلی گمشدگی کے بعد بھی کوئی واضح معلومات فراہم نہیں کی گئیں، اور اب دوبارہ لاپتہ ہونا صورتحال کو مزید سنگین بنا رہا ہے۔
پانوان اور گرد و نواح کے رہائشیوں نے اس واقعے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ جبری گمشدگیوں کے بڑھتے ہوئے واقعات نے نوجوانوں میں عدم تحفظ پیدا کر دیا ہے۔
مقامی حلقوں کا کہنا ہے کہ حراست میں لیے گئے نوجوانوں کے بارے میں کوئی معلومات فراہم نہیں کی جا رہیں۔خاندانوں کو شدید ذہنی اذیت کا سامنا ہے۔علاقے میں اس نوعیت کے واقعات مسلسل بڑھ رہے ہیں۔
انسانی حقوق کے کارکنان نے بھی بلوچستان میں ریاستی سرپرستی میں بڑھتی ہوئی جبری گمشدگیوں کے واقعات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ جبری گمشدگیوں کے واقعات کی آزادانہ تحقیقات ضروری ہیں۔