نسرین بلوچ کی جبری گمشدگی کو 27 دن مکمل، اہلخانہ کا آن لائن پریس کانفرنس میں بازیابی کا مطالبہ

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

بلوچستان کے صنعتی شہر حب چوکی سے پاکستانی فورسز کے ہاتھوں جبری گمشدگی کے شکار کمسن 15 سالہ لڑکی نسرین بلوچ کے اہلخانہ نے ایک آن لائن پریس کانفرنس میں اس کی بازیابی کا مطالبہ کیا ہے ۔

اہلخانہ کا کہنا ہے کہ 22 نومبر کی رات تقریباً 12 بجے، 15 مسلح افراد زبردستی ہمارے گھر میں داخل ہوئے۔ ان میں سے 5 افراد فرنٹیئر کور (ایف سی) کی وردی میں تھے جبکہ باقی سول لباس میں ملبوس تھے اور ایک عورت بھی ان کے ساتھ تھی۔

انہوں نے کہا کہ فورسز نے گھر میں شدید توڑ پھوڑ کی، گھ کے سب سامنا الٹ پلٹ کر بکھیر دیے اور ہمیں ایک کمرے میں بند کر دیا۔ اس دوران وہ ہماری 15 سالہ بیٹی، نسرین کو زبردستی اپنے ساتھ لے گئے۔ اس کے بعد سے آج تک نسرین کا کوئی سراغ نہیں مل سکا۔

اہلخانہ کا کہنا تھا کہ ہم نے یہ امید باند ھ رکھی کہ ہماری بیٹی جلد بازیاب ہو کر گھر واپس آجائے گی، مگر 27 دن گزرنے کے باوجود نسرین کی بازیابی عمل میں نہیں آسکی۔

انہوں نے کہا کہ واقعے کے فوراً بعد ہم نے متعلقہ تھانے جا کر ایف آئی آر کے اندراج کے لیے تحریری درخواست دی، تاہم تاحال پولیس نے ہماری درخواست وصول نہیں کی اور ایف آئی آر درج نہیں کیا، جس کے باعث ہمیں مزید ذہنی اذیت اور بے بسی کا سامنا ہے۔

پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جبری لاپتہ نسرین بلوچ کی اہلخانہ نے کہا کہ ہم نے تمام مقتدرہ حلقوں کے دروازے کھٹکھٹانے کے بعد آج بحالت مجبوری اور بے بسی کے میڈیا کے ذریعے اپنی آواز بلند کر ر ہے ہیں۔

انہوں نے متعلقہ حکام اور اداروں سے پُرزور اپیل کرتے ہوئے کہا کہ نسرین کو فوری طور پر بازیاب کرایا جائے۔اگر اس سے کوئی جرم سرزد ہوئی ہے تو اسے قانون کے مطابق عدالت میں پیش کیا جائے۔آئین و قانون کے تحت شفاف اور منصفانہ تحقیقات کا حق فراہم کیاجائے۔

ان کا کہناتھا کہ نسرین بلوچ کی جبری گمشدگی کے بعد خاندان شدید ذہنی اذیت اور کرب میں مبتلا ہے اور ریاستی اداروں سے انسانی ہمدردی اور قانون کے مطابق انصاف کا مطالبہ کرتے ہیں۔ ہمیں یقین ہے کہ میڈیا کے ذریعے یہ آواز متعلقہ حکام تک ضرور پہنچے گی اور ہم بلوچ قوم سے درخواست کرتے ہیں کہ نسرین بلوچ کی بحفاظت بازیابی کے لئے آواز اٹھائیں۔

Share This Article