وی بی ایم پی کی پریس کانفرنس: جبری لاپتہ طلبا رہنما بابل ملک کی فوری بازیابی کا مطالبہ

ایڈمن
ایڈمن
5 Min Read

وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے چیئرمین نصر اللہ بلوچ اور حوران بلوچ نے وی بی ایم پی کے دہائیوں سے جاری احتجاجی کیمپ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن (پجار) کے مرکزی سینئر وائس چیئرمین بابل ملک بلوچ کی جبری گمشدگی پر شدید تشویش کا ظہار کرتے ہوئے اس کی مذمت کی ہے۔

اس موقع پر بابل ملک کے لواحقین بھی موجود تھے ۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ بابل ملک بلوچ کو فوری طور پر منظرِ عام پر لایا جائے اور اگر ان پر کوئی الزام ہے تو انہیں عدالت میں پیش کیا جائے۔

پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بابل ملک بلوچ کو سیکیورٹی فورسز نے پولی ٹیکنک کالج کوئٹہ کے ہاسٹل سے گزشتہ رات غیر قانونی طور پر حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا۔ تاحال نہ ان کی گرفتاری کی وجوہات بتائی گئی ہیں اور نہ ہی ان کی خیریت کے حوالے سے کوئی معلومات فراہم کی گئی ہیں، جو کہ آئین و قانون اور بنیادی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔

انہوں نے کہا کہ بابل ملک بلوچ ایک پرامن سیاسی و طلبہ رہنما ہیں، جو جمہوری انداز میں طلبہ کے حقوق کے لیے آواز بلند کرتے رہے ہیں۔ ان کی گرفتاری دراصل جمہوری و پرامن آوازوں کو دبانے کی کوشش ہے، جسے کسی صورت قبول نہیں کیا جا سکتا۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم حکومتِ وقت سے پرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ بابل ملک بلوچ سمیت تمام لاپتہ افراد کو فوری طور پر منظرِ عام پر لایا جائے اور اگر ان پر کوئی الزام ہے تو انہیں قانون کے مطابق عدالت میں پیش کیا جائے۔ بصورت دیگر، وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز طلبہ تنظیموں اور سیاسی جماعتوں کے ساتھ مل کر احتجاج کا حق محفوظ رکھتی ہے۔

نصر اللہ بلوچ نے کہا کہ رواں سال کے ابتدائی مہینوں میں دو سو سے زائد بلوچ افراد کو، جن کا تعلق مختلف مکاتبِ فکر سے ہے، بلوچستان کے مختلف علاقوں سمیت کراچی اور پنجاب سے جبری طور پر لاپتہ کیا گیا۔ ان میں خواتین بھی شامل ہیں۔ متعدد کیسز میں اطلاعات ہیں کہ حراست میں لیے گئے افراد کو ماورائے عدالت قتل کر کے ان کی لاشیں ویران علاقوں میں پھینک دی گئیں—جو کہ نہایت افسوسناک اور قابلِ مذمت عمل ہے۔

وی بی ایم پی کے چیئر مین نے کہا کہ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ان سنگین خلاف ورزیوں پر نہ تو حکومت نے مؤثر نوٹس لیا اور نہ ہی متعلقہ اداروں نے اپنی ذمہ داریاں پوری کیں، جس کے باعث یہ سلسلہ مسلسل جاری ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم واضح کرنا چاہتے ہیں کہ بلوچستان کا مسئلہ ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل صرف اور صرف سیاسی اور جمہوری طریقوں سے ممکن ہے۔ طاقت کے استعمال اور ماورائے قانون اقدامات نے مسائل کو حل کرنے کے بجائے مزید پیچیدہ بنایا ہے، اور اس سے عوام خصوصاً نوجوانوں کا ریاستی اداروں پر اعتماد مجروح ہوا ہے۔

پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے حکومت اور ریاستی اداروں سے مطالبہ کیا کہ وہ سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے تمام لاپتہ افراد کو فوری بازیاب کیا جائے، جن پر الزام ہے تو انہیں عدالتوں میں پیش کر کے قانونی چارہ جوئی کا حق دیا جائے۔ جبری گمشدگیوں اور ماورائے عدالت اقدامات کا خاتمہ یقینی بنایا جائے۔ بلوچستان کے وسائل پر مقامی آبادی کے حق کو تسلیم کرتے ہوئے عملی اقدامات کیے جائیں۔ اہل بلوچستان کے بنیادی اور آئینی حقوق کا مکمل تحفظ یقینی بنایا جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ اقدامات نہ صرف اعتماد کی بحالی میں مددگار ہوں گے بلکہ بلوچستان میں پائیدار امن اور سیاسی استحکام کی بنیاد بھی رکھ سکتے ہیں۔

آخر میںانہوں نے تمام سیاسی جماعتوں، طلبہ تنظیموں اور سول سوسائٹی سے اپیل کی وہ جبری گمشدگیوں اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف مشترکہ اور مؤثر جدوجہد کے لیے آگے آئیں۔

Share This Article