بابل ملک کی جبری گمشدگی: سچ بولنے اور حق مانگنے والوں کے لیے جگہ نہیں چھوڑی جا رہی،بی ایس ایف

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

بلوچ اسٹوڈنٹس فرنٹ کے مرکزی ترجمان نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ بابل ملک کو رات کی تاریکی میں پولی ٹیکنیکل کالج کے ہاسٹل سے اغوا کرنا ریاستی جبر کی بدترین مثال اور آئین و قانون کے منہ پر طمانچہ ہے۔ ایک باشعور، متحرک اور نڈر طلبہ رہنما کو نشانہ بنانا دراصل اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ سچ بولنے والوں اور حق مانگنے والوں کے لیے اس نظام میں کوئی جگہ نہیں چھوڑی جا رہی۔

بیان میں کہا گیا کہ یہ عمل محض ایک فرد کے خلاف نہیں بلکہ پوری طلبہ سیاست، شعور اور مزاحمت کے خلاف کھلی جنگ ہے۔ مگر یہ طاقت کے ایوانوں میں بیٹھے عناصر کی خام خیالی ہے کہ وہ خوف، دھونس اور جبری گمشدگیوں کے ذریعے نوجوانوں کے حوصلے پست کر سکیں گے۔

ترجمان نے مزید کہا کہ تعلیمی اداروں کو قید خانوں میں بدل دینا اور طلبہ کو اغوا کرنا اس نظام کی بوکھلاہٹ کا ثبوت ہے کہ اختلافِ رائے سے خوفزدہ قوتیں اب کھلے عام غیر آئینی ہتھکنڈوں پر اتر آئی ہیں۔ تاہم ہم واضح کرنا چاہتے ہیں کہ ایسے ہتھکنڈے طلبہ کی جدوجہد کو روک نہیں سکتے بلکہ یہ ہمارے عزم کو مزید مضبوط کرتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں اس سے قبل بھی متعدد طلبہ، سیاسی کارکنوں اور سماجی آوازوں کو اسی طرح خاموش کرنے کی ناکام کوشش کی گئی، مگر ہر بار مزاحمت نے جنم لیا اور سچ نے اپنا راستہ بنایا۔ طلبہ اس جبر کے سامنے جھک نہیں سکتے۔

ترجمان نے اپنے بیان کے آخر میں کہا کہ تنظیم حکومتِ وقت، متعلقہ سیکیورٹی اداروں اور انسانی حقوق کے ذمہ دار اداروں سے پرزور مطالبہ کرتی ہے کہ طلبہ رہنما کی بحفاظت بازیابی کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں اور انہیں منظرِ عام پر لایا جائے۔

Share This Article