بلوچستان کے صنعتی شہر حب چوکی سے پاکستانی فورسز نے ایک بلوچ لڑکی کو حراست میں لے کر نامعلوم مقام منتقل کردیا ۔
واقعہ گذشتہ شب 22 نومبر 2025 کی رات تقریباً 12 بجے پیش آیاجہاں فورسز اور خفیہ اداروں کے اہلکاروں نے حب چوکی کے علاقے دارو ہوٹل میں ایک گھر پر چھاپہ مارا ، اور 15 سالہ لڑکی نسرین دختر دلاور بلوچ ساکن تیرتیج آواران کو زبردستی حراست میں لینے کے بعد جبری طور پر لاپتہ کردیا ہے ۔
گھر والوں کے مطابق حراست میں لینے کے بعد کسی قسم کی اطلاع، مقدمہ یا سرکاری ریکارڈ فراہم نہیں کیا گیا، اور اہلکار بغیر کسی وضاحت کے نسرین کو نامعلوم مقام پر منتقل کر کے چلے گئے۔
اہلِ خانہ شدید خوف و پریشانی میں مبتلا ہیں اور انہوں نے فوری بازیابی کا مطالبہ کیا ہے۔
واضح رہے کہ بلوچستان میں پاکستانی فورسز کے ہاتھوں خواتین کی جبری گمشدگیوں کے کیسز پہلے بھی سامنے آتے رہے ہیں ۔
پانچ مہینے قبل کوئٹہ سے ماہ جبین کو پاکستانی فورسز نے تحویل میں لے کر جبری لاپتہ کیا ہے اور ابتک منظر عام پر نہیں آسکیں۔