زیارت:اسسٹ کمشنر کے اغواء کاروں کا سراغ لگانے پر 5 کروڑ نقد انعام کا اعلان

ایڈمن
ایڈمن
4 Min Read

بلوچستان حکومت نے زیارت کے علاقے زیزری سے اسسٹنٹ کمشنر افضل باقی اور ان کے بیٹے کے اغواء کاروں کا سراغ لگانے پر 5 کروڑ نقد انعام کا اعلان کیا ہے۔

ڈی سی زیارت ذکاء اللہ کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق اغوا کاروں نے اسسٹنٹ کمشنر اور ان کے بیٹے کو زیزری کے مقام سے اغواء کیا تھا۔ اس واقعے کے بعد سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کا سرچ آپریشن جاری ہے۔

نوٹیفکیشن میں عوام قبائلی عمائدین اور میڈیا نمائندگان سے اپیل کی گئی ہے کہ اغواء کاروں کے متعلق مصدقہ معلومات فراہم کریں۔

حکومت بلوچستان نے اعلان کیا ہے کہ معلومات فراہم کرنے والے کو5 کروڑ نقد انعام دیا جائے گا اور اس کا نام صیغہ راز میں رکھا جائے گا تاکہ اس کی سلامتی یقینی بنایا جا سکے۔

بلوچستان حکومت کی جانب سے کہا گیا ہے کہ افسوسناک واقعے نے علاقے میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے حکومتی ادارے مغوی اسسٹنٹ کمشنر اور ان کے بیٹے کی بازیابی کے لئے ہر قسم کے وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔

حکومت بلوچستان کی جانب سے نقد رقم کے اعلان کے اقدام پر سوشل میڈیا پر فواد احمد نامی ایک صارف نے اسے لسانی معاملہ قرار دیتے ہوئے لکھا ہے کہ اس سے پہلے بھی ایک اسسٹنٹ کمشنر اغوا ہوا ہے جو کہ بہت عرصے سے اغوا کاروں کے قبضے میں ہے لیکن اس کی بازیابی کےلئے کوئی انعام کا اعلان نہیں کیا گیا ہے کیونکہ اس اسسٹنٹ کمشنر کا تعلق غریب بلوچستان کے ایک پشتون گھرانے سے ہے۔

صارف نے لکھااحالیہ اغوا ہونے والے اسسٹنٹ کمشنر پر انعام اس لیے رکھا گیا ہے کیونکہ وہ ایک پنجابی ہے۔

صارف نے سوال اٹھا یا کہ پاکستان میں تمام انسان برابر کیوں نہیں ہیں؟ پنجاب اور بلوچستان کے ڈومیسائل میں اتنا فرق کیوں ہے؟ حالانکہ مغویان دونوں اسسٹنٹ کمشنرز ہیں اور دونوں کو بلوچستان میں اغوا کیا گیا ہے، ایک کی بازیابی کے لئے انعام کا اعلان کیا گیا جبکہ دوسرے کے بازیابی کے لئے انعام تو اپنی جگہ کوشش بھی نہیں کی جارہی ہے۔

صارف نے آخر میں طنزاً لکھا "شاید اسی کو کہتے ہیں دو قومی نظریہ”

واضع رہے کہ اسسٹنٹ کمشنر افضل باقی کو اتوار کے روز زیارت سے نامعلوم مسلح افراد نے بیٹے سمیت اغوا کرلیا جبکہ ڈرائیور اور گن مین کو بحفاظت چھوڑ دیا ۔

لیویز ذرائع کے مطابق مسلح افراد نے اسسٹنٹ کمشنر زیارت افضل باقی کو گن مینوں سمیت یرغمال بنایا۔

افضل باقی کی اغوا کی ذمہ داری تاحال کسی تنظیم نے قبول نہیں کی ہے۔

اس سے قبل بھی 4 جون کو ضلع کیچ سے ایک اسسٹنٹ کمشنر کے اغوا کا واقعہ پیش آیا تھا جس کے حوالے سے تاحال کوئی خبر نہیں ہے ۔

اسسٹنٹ کمشنر تمپ محمد حنیف نورزئی کو تربت سے کوئٹہ جاتے ہوئے راستے میں مسلح افراد نے اغوا کرلیاتھا۔جس کی ذمہ داری بعد ازاں بی ایل ایف نے قبول کرلی تھی ۔

Share This Article