بلوچستان کے مرکزی شہر کوئٹہ میں بولان میڈیکل کمپلیکس (BMC) کے سامنے خدیجہ بلوچ کی رہائی کے لیے جاری دھرنا آج پانچویں روز میں داخل ہو گیا ہے۔
پانچ دن سے جاری اس احتجاج کے باوجود انتظامیہ کی جانب سے کوئی خاطر خواہ پیش رفت نہیں ہوئی۔
مظاہرین کا کہنا ہے کہ انتظامیہ مذاکرات کے بہانے صرف ہراسانی اور دباؤ ڈالنے کی کوشش کر رہی ہے۔
آج کوئٹہ کے مختلف مقامات پر، جن میں بی ایم سی اسپتال، بروری روڈ اور عیسیٰ نگری شامل ہیں، پمفلٹ تقسیم کیے گئے۔ اس مہم کا مقصد ریاستی جبر کو بے نقاب کرنا اور یہ دکھانا تھا کہ کس طرح بلوچ عوام، خصوصاً خواتین، کو جبری طور پر لاپتہ اور قید کیا جا رہا ہے۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی نے بلوچ عوام اور بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں سے اپیل کی ہے کہ وہ اس جبر کے خلاف آواز بلند کریں، اس سے پہلے کہ حالات مزید سنگین ہو جائیں۔
کمیٹی کے مطابق خدیجہ بلوچ کی جبری گمشدگی بلوچ خواتین کے خلاف بڑھتے ہوئے ریاستی جبر کی علامت ہے۔