بلوچ لبریشن آرمی( بی ایل اے) کے ترجمان جیئند بلوچ نے میڈیا کو جاری اپنے ایک بیان میں ستائیس حملوں میں پاکستانی فوج کے 42 اہلکاروں کی ہلاکت ، ایک کی گرفتاری اور اسلحات ضبط کرنے کی ذمہ داری قبول کرلی۔
ترجمان کے مطابق بلوچ لبریشن آرمی کے سرمچاروں نے 15 اپریل سے 25 اپریل کے دوران بلوچستان بھر میں ستائیس (27) کارروائیاں کیں، جن میں قابض پاکستانی فوج پر آئی ای ڈی (IED) اور ڈرون حملوں سمیت گھات حملے شامل ہیں۔ ان حملوں میں قابض فوج کے 42 اہلکار ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے، جبکہ ایک فوجی اہلکار کو سرمچاروں نے زندہ حراست میں لیا۔ سرمچاروں نے فورسز کی چوکیوں پر کنٹرول حاصل کر کے اسلحہ ضبط کیا۔ دشمن سے مختلف مقامات پر جھڑپوں میں سنگت شاہ کرم ملازئی عرف ساچان، گہرام بلوچ عرف کمبر اور عاصم شاہوانی عرف رودین شہید ہوگئے۔
کارروائیوں کی تفصیلات درج ذیل ہیں:
15 اپریل: خضدار، زہری میں بی ایل اے کے سرمچاروں نے سوہندہ کے مقام پر پیش قدمی کرنے والے قابض فوج کے پیدل اہلکاروں کو ریموٹ کنٹرول آئی ای ڈی حملے میں نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں تین اہلکار موقع پر ہلاک ہو گئے۔ بعد ازاں قابض فوج نے قافلے کی شکل میں پیش قدمی کی کوشش کی، جس پر سرمچاروں نے گھات لگا کر ان پر حملہ کیا۔ حملے میں قابض فوج کے مزید سات اہلکار ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے۔ بزدل دشمن فوج اپنی لاشیں، گاڑی اور موٹر سائیکل چھوڑ کر فرارہوگئی۔ دوسرے روز بزدل قابض فوج اور "ڈیتھ اسکواڈز” نے عام آبادیوں کو جارحیت میں نشانہ بنا کر لوگوں کو قیدی بنانے کے بعد گیارہ افراد کو براہِ راست فائرنگ کرکے شہید کردیا۔
16 اپریل: خاران، المرک میں قابض پاکستانی فوج کو سرمچاروں نے اس وقت آئی ای ڈی اور گھات لگا کر حملوں میں نشانہ بنایا جب وہ متعدد گاڑیوں میں فوجی جارحیت کی غرض سے علاقے میں پیش قدمی کررہی تھی۔ حملوں کے باعث قابض فوج پسپا ہونے پر مجبور ہوگئی، جبکہ ان حملوں میں قابض فوج کے کم از کم سات اہلکار ہلاک ہوئے اور دو گاڑیاں تباہ ہوگئیں۔ اسی روز کوئٹہ میں سرمچاروں نے ایگل اسکواڈ کے پولیس اہلکاروں کو قمبرانی روڈ پر اس وقت آئی ای ڈی حملے میں نشانہ بنایا جب وہ موٹر سائیکلوں پر گشت کر رہے تھے، دھماکے میں دو اہلکار زخمی ہوگئے۔
17 اپریل: سرمچاروں نے کوہلو میں قابض پاکستانی فوج کے اہم کارندے شیر افضل زرکون کو انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن میں اس وقت حملے میں نشانہ بنا کر ہلاک کردیا جب وہ رات کے وقت موٹر سائیکل پر سفر کررہا تھا۔ مذکورہ شخص قابض فوج کی سرپرستی میں دکی میں "ڈیتھ اسکواڈ” کی سربراہی کررہا تھا۔ یہ مسلح جتھہ علاقے میں نوجوانوں کی جبری گمشدگیوں، چادر وچاردیواری کی پامالی اور فوجی جارحیت میں ملوث رہا ہے۔ اسی روز بسیمہ میں سرمچاروں نے "ڈیتھ اسکواڈ” سرغنہ ٹکری سمالانی اور صمد کے قافلوں کو جُر اور ممائی کے مقامات پر حملوں میں نشانہ بنایا، بعد ازاں پیش قدمی کی کوشش کرنے والی قابض فوج کو بھی سرمچاروں نے حملے میں نشانہ بنایا۔ ان حملوں میں "ڈیتھ اسکواڈ” اور قابض فوج کے متعدد اہلکار ہلاک وزخمی ہو گئے۔
18 اپریل: قابض پاکستانی فوج نے ہرنائی، شاہرگ میں جارحیت کی غرض سے پیش قدمی کی جس پر سرمچاروں نے دشمن پر حملوں کا آغاز کیا۔ جھڑپوں میں قابض فوج کے متعدد اہلکار ہلاک وزخمی ہوئے، جبکہ اس دوران ایک اہلکار عبدالحلیم ولد شفیع محمد (آرمی نمبر 3578541) کو حراست میں لیا گیا۔ فوجی اہلکار عبدالحلیم ہماری حراست میں ہے جس سے تفتیش جاری ہے۔
جھل مگسی میں سرمچاروں نے شوران لیویز چوکی کو کنٹرول میں لے کر اسلحہ ضبط کیا۔ سرمچاروں کے ایک اور دستے نے قابض فوج کی حمایت یافتہ مسلح گروہ کے کیمپ کو کنٹرول میں لے کر اسلحہ ضبط کرکے کیمپ کو نذرِ آتش کر دیا۔ زامران کے علاقے نوانو میں سرمچاروں نے قابض پاکستانی فوج کی دو رسد گاڑیوں کو تحویل میں لے کر نذرِ آتش کرکے تباہ کردیا۔ پنجگور، خدابادان میں سرمچاروں نے رات کے وقت قابض پاکستانی فوج کی گاڑیوں کو حملے میں نشانہ بنایا، حملے میں دشمن کے دو اہلکار ہلاک ہوگئے۔
19 اپریل: زامران میں مومیچ کے مقام پر قابض پاکستانی فوج سے جھڑپوں میں سنگت شاہ کرم ملازئی عرف ساچان شہید ہوگئے۔ مستونگ، دشت میں کمبیلا کے مقام پر سرمچاروں کے حملے میں قابض فوج کے چار اہلکار ہلاک اور مزید سات زخمی ہوگئے۔ قابض فوج پر سرمچاروں نے اس وقت حملہ کیا جب وہ جارحیت کی غرض سے علاقے میں پیش قدمی کر رہی تھی۔ سرمچاروں نے رات کے وقت قابض فوج کو ایک اور حملے میں نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں قابض فوج کے مزید پانچ اہلکار ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے۔ قابض فوج اپنے ہلاک اہلکاروں کی لاشیں اور تباہ ہونے والی گاڑی کو چھوڑ کر فرار ہوگئی۔
اسی روز سرمچاروں نے دشت، کنڈ مسوری کے مقام پر قابض فوج کے کیمپ کو حملے میں نشانہ بنا کر دو اہلکاروں کو ہلاک کردیا، جبکہ اسی روز شام کے وقت کوئٹہ سے متصل ڈغاری کراس کے مقام پر سرمچاروں نے قابض فوج کی گاڑیوں کو حملے میں نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں قابض فوج کے تین اہلکار ہلاک اور ان کی گاڑی ناکارہ ہو گئی۔ کمبیلا میں جھڑپوں کے دوران سنگت عاصم شاہوانی عرف رودین شہید ہوگئے۔
22 اپریل: سرمچاروں نے نوشکی، زرین جنگل کے مقام پر "سی ٹی ڈی” کے قافلے کو حملے میں نشانہ بنایا۔ دالبندین میں خزانگی اور کرودک کے مقامات پر لیویز فورس کی دو چوکیوں کو تحویل میں لے کر اسلحہ ضبط کیا۔
مستونگ، گرگینہ میں کوتل کے مقام پر بی ایل اے کی فضائی اور ڈرون وارفیئر یونٹ “قہر” (QAHR) نے قابض پاکستانی فوج کے کیمپ پر ڈرون حملہ کیا، حملے میں قابض فوج کے دو اہلکار ہلاک اور چار زخمی ہو گئے جبکہ دشمن کو مالی نقصانات کا سامنا کرنا پڑا۔
24 اپریل: کوئٹہ، ہنہ اوڑک کے قریب سرمچاروں نے تیل وگیس کمپنی کے سائٹ پر کنٹرول حاصل کرکے بھاری مشینری سمیت گاڑیوں کو نذرِ آتش کرکے تباہ کردیا۔ سوراب، حاجیکہ کے مقام پر سرمچاروں نے قابض فوج پر آئی ای ڈی حملے کے بعد گھات لگا کر حملہ کیا۔ حملے میں قابض فوج کے چار اہلکار ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے۔
25 اپریل: سرمچاروں نے ہفتے کی شب قلات، زاوہ میں قابض پاکستانی فوج کے اہلکاروں کو اس وقت دھماکے میں نشانہ بنایا جب وہ آئی ای ڈی کو ناکارہ کرنے کی کوشش کر رہے تھے، دھماکے میں دو اہلکار موقع پر ہلاک اور مزید تین زخمی ہو گئے۔ اسی شب دالبندین، یک مچ میں سرمچاروں نے پولیس تھانے اور ریسٹ ہاؤس پر کنٹرول حاصل کر کے اہلکاروں کا اسلحہ ضبط کیا اور بعد ازاں عمارتوں، وہاں کھڑی گاڑیوں کو مشینری سمیت نذرِ آتش کردیا۔
ترجمان نے آخر میں کہا کہ بی ایل اے ان کارروائیوں کے دوران مادرِ وطن کی مٹی کو اپنے لہو سے سینچنے والے جانباز سرمچاروں، شاہ کرم ملازئی عرف ساچان، گہرام بلوچ عرف کمبر اور عاصم شاہوانی عرف رودین کو ان کی عظیم قربانی پر سرخ سلام پیش کرتی ہے۔ ان شہدا نے غلامی کی زنجیریں توڑنے اور بلوچ قومی بقا کی خاطر میدانِ جنگ میں دشمن کی برتر قوت کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اور اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر آزادی کی شمع کو روشن رکھا۔ ان کا بہتا ہوا خون اس عہد کی تجدید ہے کہ بلوچ قومی تحریک اب اس مقام پر پہنچ چکی ہے جہاں موت کا خوف وطن کی محبت کے سامنے ہیچ ہوچکا ہے۔ بی ایل اے اس عزم کا اعادہ کرتی ہے کہ شہدا کا لہو رائیگاں نہیں جائے گا اور ان کے ادھورے مشن کو بلوچستان کی مکمل آزادی اور غاصب دشمن کے حتمی انخلاء تک منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا۔ ان عظیم بلوچ بیٹوں کی قربانیاں بلوچ تاریخ کے ماتھے کا جھومر اور آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ رہیں گی۔