ایران میں ایک شخص کو مسلح گروپ سے تعلق رکھنے اور سکیورٹی فورسز پر حملوں کا جرم ثابت ہونے پر پھانسی دے دی گئی ہے۔
ایرانی عدلیہ سے منسلک خبر رساں ادارے میزان کی جانب سے یہ خبر سامنے آرہی ہے کہ ایران میں اتوار کے روز جس شخص کو پھانسی دی گئی ہے اُن کا تعلق سنی عسکریت پسند گروپ جیش العدل سے تھا اور وہ ملک کے جنوب مشرق میں سکیورٹی فورسز کو نشانہ بنانے والے حملوں میں ملوث تھے۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’عامر رمیش کو صوبہ سیستان بلوچستان کے ضلع چابہار کے علاقے پیرسحراب میں انسداد دہشت گردی آپریشن کے دوران گرفتار کیا گیا تھا، تاہم خبر رساں ادارے نے ان کی گرفتاری کی تاریخ یا ان کے خلاف جاری ہونے والے فیصلے کی وضاحت نہیں کی۔
رمیش کو کالعدم جیش العدل گروپ میں رکنیت کے علاوہ ’بم دھماکوں اور فوجی دستوں کو نشانہ بنانے والے حملوں کا مجرم قرار دیا گیا تھا جسے امریکہ نے دہشت گرد تنظیم قرار دیا ہے۔
ایران میں ایک عدالت نے انھیں سزائے موت سنائی اور بعد میں ان کے وکیل کی طرف سے دائر کی گئی اپیل کے بعد سپریم کورٹ نے ان کی سزا کو برقرار رکھا۔
تاہم عدلیہ کے مطابق آج صبح انھیں پھانسی دے دی گئی۔