ڈاکٹر شلی کا عالمی اداروں کوکھلاخط: بلوچ خواتین کی جبری گمشدگیوں پر فوری مداخلت کی اپیل

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

بلوچ ویمن فورم کی آرگنائزر ڈاکٹر شلی بلوچ نے اقوامِ متحدہ اور عالمی انسانی حقوق کے اداروں کو ایک کھلا خط لکھ کر بلوچستان میں بڑھتی ہوئی جبری گمشدگیوں، خصوصاً بلوچ خواتین کے اغوا اور حراست سے متعلق سنگین خدشات پر فوری مداخلت کی اپیل کی ہے۔

خط اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کونسل (UNHRC)، دفترِ ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق (OHCHR)، جبری گمشدگیوں پر اقوامِ متحدہ کے ورکنگ گروپ، CEDAW کمیٹی، ایمنسٹی انٹرنیشنل، ہیومن رائٹس واچ اور فرنٹ لائن ڈیفینڈرز کو ارسال کیا گیا ہے۔

ڈاکٹر شلی بلوچ نے خط میں تین خواتین — خدیجہ بلوچ، حسینہ نور بخش، اور گل بانک تاج — کی جبری گمشدگی کو "منظم ریاستی پیٹرن” قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ خواتین نہ سیاسی کارکن تھیں، نہ کسی جرم میں مطلوب، بلکہ طالبات اور گھریلو خواتین تھیں۔

خدیجہ بلوچ، نرسنگ کی طالبہ، مبینہ طور پر بولان میڈیکل کالج کے ہاسٹل سے اٹھائی گئیں۔
حسینہ نور بخش، کراچی کے علاقے نیول سے اپنے بچوں کے سامنے جبری طور پر لے جائی گئیں۔
گل بنوک تاج، ضلع کیچ کے علاقے سنگاباد سے اغوا ہوئیں، جبکہ ان کے شوہر کی مسلسل درخواستوں کے باوجود کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔

اہلِ خانہ کے مطابق ان خواتین کی جگہِ حراست، صحت یا قانونی حیثیت کے بارے میں کوئی معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔

خط میں متعدد بین الاقوامی معاہدوں اور انسانی حقوق کے چارٹرز کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ یونیورسل ڈیکلریشن آف ہیومن رائٹس (UDHR)CEDAWانٹرنیشنل کونویننٹ آن سول اینڈ پولیٹیکل رائٹس (ICCPR)UN Declaration on Enforced Disappearanceکی براہِ راست خلاف ورزی ہیں، جن کے تحت پاکستان شہریوں کی آزادی، تحفظ اور قانونی عمل کی ضمانت دینے کا پابند ہے۔

بلوچ ویمن فورم نے عالمی اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بلوچستان، کراچی اور کیچ میں آزاد فیکٹ فائنڈنگ مشن بھیجیں۔پاکستان سے مطالبہ کریں کہ خواتین کو عدالتی مجسٹریٹ یا بین الاقوامی مبصر کے سامنے پیش کیا جائے۔بلوچ خواتین کی جبری گمشدگیوں پر خصوصی رپورٹر مقرر کیا جائے۔پاکستان کے اگلے UPR سائیکل میں اس مسئلے کو مرکزی ایجنڈا بنایا جائے۔انٹیلی جنس اداروں کی جانب سے خواتین کے خلاف کارروائیوں پر عارضی پابندی عائد کی جائے۔

خط کے آخر میں ڈاکٹر شلی بلوچ نے لکھا "ہر گزرتا لمحہ ان خواتین کو زندہ ملنے کے امکانات کم کر رہا ہے۔ ان کے بچے انتظار میں ہیں، ان کی مائیں رو رہی ہیں، اور دنیا اب مزید خاموش نہیں رہ سکتی۔”

بلوچ ویمن فورم کے مطابق قومی اداروں کی خاموشی اور عدم تعاون کے باعث عالمی برادری ہی آخری امید ہے۔

Share This Article