وی بی ایم پی کا احتجاجی کیمپ 6146ویں روز جاری، فوزیہ بلوچ کی گرفتاری کی مذمت

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

جبری گمشدگیوں کے خلاف وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز (وی بی ایم پی) کے زیر اہتمام کوئٹہ پریس کلب کے سامنے قائم احتجاجی کیمپ نیاز محمد کی سربراہی میں 6146ویں روز میں داخل ہوگیا، جہاں مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کرکے لاپتہ افراد کے لواحقین سے اظہارِ یکجہتی کیا۔

شرکاء نے جبری گمشدگیوں کو انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے اس کے فوری خاتمے اور لاپتہ افراد کی بازیابی کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ متاثرہ خاندان برسوں سے اذیت کا سامنا کر رہے ہیں، لہٰذا حکومت اور متعلقہ ادارے اس مسئلے کے حل کے لیے سنجیدہ اقدامات کریں۔

وی بی ایم پی کے چیرمین نصراللہ بلوچ نے کراچی میں فوزیہ بلوچ کی گرفتاری کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے بھائی کی جبری گمشدگی کے خلاف کراچی پریس کلب کے سامنے پرامن احتجاج کر رہی تھیں، تاہم انتظامیہ نے انہیں احتجاج سے روک کر گرفتار کرلیا۔

انہوں نے کہا کہ فوزیہ بلوچ اور ان کے اہلِ خانہ کو پرامن احتجاج سے روکنا اور گرفتار کرنا شہریوں کے بنیادی حقوق اور اظہارِ رائے کی آزادی کی خلاف ورزی ہے، جس کی سخت الفاظ میں مذمت کی جاتی ہے۔

نصراللہ بلوچ نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ فوزیہ بلوچ سمیت دیگر گرفتار خواتین کو فوری طور پر باعزت رہا کیا جائے اور ان کے بھائی داد شاہ سمیت تمام لاپتہ افراد کی بازیابی کو یقینی بنایا جائے۔

Share This Article