فوزیہ بلوچ اور اہلِ خانہ رہا، مجسٹریٹ نے مقدمہ خارج کر دی

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

کراچی پولیس کی جانب سے بلوچ یکجہتی کمیٹی (BYC) کراچی کی آرگنائزر اور سماجی کارکن فوزیہ بلوچ، ان کی والدہ اور اہلِ خانہ کی گرفتاری کے بعد اب انہیں رہا کر دیا گیا ہے۔

پولیس کی جانب سے درج کی گئی ایف آئی آر کو بھی مجسٹریٹ نے خارج کر دیا ہے۔

فوزیہ بلوچ اپنے جبری طور پر لاپتہ بھائی داد شاہ بلوچ کی بازیابی کے لیے کراچی پریس کلب کے باہر احتجاج کر رہی تھیں، جب ہفتے کے روز پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے انہیں اور ان کے اہلِ خانہ سمیت سات افراد کو حراست میں لیا تھا۔

گرفتار افراد کو نامعلوم مقام پر منتقل کیے جانے کی اطلاعات پر اہلِ خانہ اور سماجی حلقوں نے شدید تشویش کا اظہار کیا تھا۔

داد شاہ بلوچ کو 21 اپریل 2026 کو ان کے گھر سے جبری طور پر لاپتہ کیا گیا تھا، اور اہلِ خانہ کے مطابق پولیس نے ان کی گمشدگی کے حوالے سے ایف آئی آر درج کرنے سے بھی انکار کر دیا تھا۔

بلوچ یکجہتی کمیٹی نے فوزیہ بلوچ اور ان کے اہلِ خانہ کی گرفتاری کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے ریاستی جبر اور احتجاج کو دبانے کی کوشش قرار دیا تھا۔

رہائی کے بعد جاری اپنے تازہ بیان میں بی وائی سی نے کہا ہے کہ “ہم تمام افراد کا شکریہ ادا کرتے ہیں جنہوں نے آواز اٹھائی، خصوصاً اُن وکلاء کا جو ناانصافی کے خلاف ڈٹے رہے۔ لیکن ہماری جدوجہد ختم نہیں ہوئی۔ جبری گمشدگیوں کا سلسلہ بدستور جاری ہے اوربی وائی سی کے کئی رہنما اب بھی جھوٹے مقدمات میں قید ہیں۔”

بیان میں مزید کہا گیا کہ تنظیم اپنی جدوجہد جاری رکھے گی اور جبری گمشدگیوں کے خاتمے اور ذمہ داران کے احتساب تک آواز بلند کرتی رہے گی۔

بی وائی سی نے بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ اس معاملے کا نوٹس لیں۔

Share This Article