لوامز انتظامیہ کی جانب سے فیسوں میں غیر منصفانہ اضافہ، بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی احتجاج

ایڈمن
ایڈمن
5 Min Read

بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی اوتھل زون نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ بلوچستان بھر میں تعلیمی اداروں کی مجموعی صورتحال تشویشناک ہے، اور انہی میں لسبیلہ یونیورسٹی بھی شامل ہے جہاں آئے روز نئے مسائل جنم لے رہے ہیں، جس سے طلبہ میں بے چینی بڑھ رہی ہے۔ طویل عرصے سے یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے تعلیم مخالف پالیسیوں کا نفاذ جاری ہے۔

بیان میں کہا کیا کہ یونیورسٹی کے بیشتر شعبہ جات میں اساتذہ کی شدید کمی، لیبارٹریوں کا فقدان، پانی و بجلی کی عدم دستیابی اور دیگر بنیادی سہولیات کی کمی طلبہ کی تعلیمی راہ میں بڑی رکاوٹ بن چکی ہے۔ ہاسٹلز میں صفائی ستھرائی کی صورتحال انتہائی ناقص ہے، کمروں اور واش رومز کی حالت ابتر ہے۔ مزید برآں، موجودہ دور میں انٹرنیٹ طلبہ کی بنیادی ضرورت ہے، مگر ہاسٹلز میں انٹرنیٹ کی رفتار نہایت سست ہے، جس کے باعث طلبہ کو ریسرچ، پریزنٹیشنز اور تعلیمی منصوبوں کی تیاری میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ عرصۂ دراز سے یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے طلبہ و طالبات کو مختلف طریقوں سے ہراساں کرنے کا عمل جاری ہے۔ ڈپارٹمنٹس میں منعقد ہونے والے پروگرامز اور سیمینارز کے دوران طلبہ کو ایک دوسرے کے خلاف بدظن کیا جاتا ہے، جبکہ انہیں ڈرا دھمکا کر انتظامیہ کی ناانصافیوں پر خاموش رہنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ہاسٹلز میں سیکیورٹی افسران اور گارڈز کی بلا جواز آمد و رفت اور طلبہ کے کمروں میں بغیر اجازت داخل ہونا عدم تحفظ اور غیر یقینی کی فضا کو جنم دے رہا ہے۔

تنظیم کا کہنا تھا کہ مزید برآں، ہاسٹل میں تفریحی سرگرمیوں پر پابندیاں عائد کرنا طلبہ کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ نام نہاد ڈسپلن کمیٹی کے ذریعے ان طلبہ کو خاص طور پر نشانہ بنایا جاتا ہے جو اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کرتے ہیں۔دوسری جانب طالبات کو بھی انتظامیہ اور ہاسٹل عملے کی جانب سے ہراسانی کا سامنا ہے۔ ہاسٹل وارڈن کا طالبات کے کمروں میں بغیر اجازت داخل ہونا اور ان کی نگرانی کرنا نہ صرف ان کی نجی زندگی میں مداخلت ہے بلکہ ایک تعلیمی ادارے کے وقار اور بنیادی اصولوں کے بھی منافی ہے۔ غیر نصابی سرگرمیوں میں حصہ لینے والی طالبات کے گھروں میں فون کر کے انہیں ڈرایا دھمکایا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ڈسپلن کمیٹی میں مرد اساتذہ ان کی تذلیل کرتے ہیں جس سے طالبات کے اندر عدم اعتمادی بڑھ رہی ہے۔ فیمیل ہوسٹل میں جگہ کم ہونے کی وجہ سے طالبات کو مشکل ہورہی ہے۔ یہ سب ایڈمنسٹریشن کی نااہلی اور تعلیم دشمنی کا ثبوت ہے۔ بلوچستان میں زیادہ تر طلبہ و طالبات غریب اور پسماندہ علاقوں سے تعلق رکھتے ہیں، تاہم گزشتہ دو سال کے دوران یونیورسٹی کی جانب سے بار بار فیسوں میں اضافے نے انہیں شدید مالی دباؤ میں مبتلا کر دیا ہے۔ اس کے نتیجے میں متعدد طلبہ کے لیے اپنی تعلیم جاری رکھنا دشوار ہو چکا ہے۔ یہ صورتحال نہ صرف تعلیمی تسلسل کو متاثر کر رہی ہے بلکہ طلبہ میں بے چینی اور اضطراب کو بھی بڑھا رہی ہے۔

ترجمان کے مطابق ہم بطور طلبہ تنظیم یونیورسٹی انتظامیہ کو باور کرانا چاہتے ہیں کہ طلبہ کے مسائل کے حل کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں۔ طلبہ کسی بھی قوم کا قیمتی سرمایہ ہوتے ہیں، لہٰذا ان کے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں کا فوری ازالہ کیا جائے اور ایک سازگار تعلیمی ماحول کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔ اگر طلبہ کے مسائل حل نہ کیے گئے تو ہمیں اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے ہر طرح کے قانونی اور آئینی راستے اختیار کرنے کا حق حاصل ہے۔

Share This Article