بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کے 3 نئے واقعات رپورٹ، 2 بازیاب

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

بلوچستان کے مختلف اضلاع میں جبری گمشدگیوں کے 3 نئے واقعات سامنے آئے ہیں، جبکہ دو افراد کی بازیابی کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں۔

متاثرہ خاندانوں نے ان واقعات پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فوری انصاف اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

ضلع ڈیرہ بگٹی کے علاقے زین کوہ میں ایف سی اہلکاروں نے غلام کریم بگٹی نامی ایک شخص کو ان کے بیٹے بادا سمیت حراست میں لیا۔

اہلخانہ کے مطابق دونوں افراد کو لے جانے کے بعد ان کا کوئی سراغ نہیں مل سکا۔

ضلع پنجگور میں 35 سالہ اسداللہ ولد محمد جان، جو پیشے کے اعتبار سے دکاندار ہیں، کو 24 اپریل 2026 کی صبح ان کی دکان سے نامعلوم مسلح افراد (ڈیتھ اسکواڈ) اٹھا کر لے گئے۔

اہلخانہ کا کہنا ہے کہ اسداللہ اس وقت سے لاپتہ ہیں۔

اسی ضلع کے علاقے پیر جہلگ کے رہائشی اور پیشے کے اعتبار سے ڈرائیور عالم ولد صوالی کو چتکان کے علاقے میں واقع ڈیزل منڈی سے فورسز کی سرپرستی حاصل ڈیتھ اسکواڈ نے حراست میں لیا۔

ذرائع کے مطابق بعد میں عالم کو فوج کے حوالے کیے جانے کی اطلاعات ہیں، تاہم ان کی موجودگی یا حالت کے بارے میں کوئی معلومات فراہم نہیں کی گئی۔

بلوچ یکجہتی کمیٹی کے مطابق ریاض احمد ولد ماسٹر ایاز، جو 12 اپریل 2026 کو خاران سے جبری طور پر لاپتہ ہوئے تھے، کو 25 اپریل 2026 کو خاران ہی سے رہا کر دیا گیا۔

ان کی بازیابی کی تصدیق کمیٹی نے جاری کردہ اعلامیے میں کی ہے۔

اسی طرح ضلع کیچ کے علاقے سیدآباد بالگتر سے 19 اپریل 2026 کو لاپتہ ہونے والے عابدین ولد اسلام کو بھی 25 اپریل 2026 کو ایف سی کیمپ سہاکی بالگتر سے رہا کر دیا گیا۔

بلوچ یکجہتی کمیٹی نے ان کی رہائی کو جبری گمشدگیوں کے خلاف عوامی دباؤ کا نتیجہ قرار دیا ہے۔

متاثرہ خاندانوں اور مقامی ذرائع نے کہا ہے کہ جبری گمشدگیوں کا سلسلہ نہ صرف متاثرہ خاندانوں بلکہ پورے علاقے میں خوف اور بے یقینی کو بڑھا رہا ہے۔ انہوں نے فوری طور پر باقی لاپتہ افراد کی بازیابی اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

Share This Article