بی ایل اے نے زیرحراست 5 پولیس اہلکاروں کے تصاویر جاری کردیئے

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

بلوچ لبریشن آرمی نے قلات منگچر سے دو روزقبل گرفتارکئے گئے 5 پولیس اہلکاروں کے تصاویر اپنے آفیشل میڈیا چینل "ہکّل” پر جاری کردیئے ہیں۔

گذشتہ روز پولیس حکام کا کہنا تھا کہ بلوچستان کے قلات کے علاقے منگچر سے گڈانی جیل سے قتل سزائے موت اور منشیات کے 10قیدیوں کو کوئٹہ منتقل کرنے والی وین پولیس اہلکاروں سمیت قلات منگچر سے تاحال لاپتہ ہے۔

ان کا کہنا تھا جمعہ کی صبح کو سینٹرل جیل گڈانی سے 10قیدیوں جن میں ایک قیدی سزائے موت کا سزا یافتہ ایک منشیات کے مقدمے میں سزایافتہ اور 8قیدی منشیات کے مقدمات میں انڈر ٹرائل قیدی سوارتھے کو کوئٹہ ہداجیل منتقل کرنے کیلئے حب پولیس کے سب انسپکٹر انور بلوچ ،اے ایس آئی غلام سرور ،سپاہی شبیر احمد ،فراز احمد حوالدار،محمد اقبال شیخ سپاہی اور محمدناصر سپاہی کی نگرانی میں روانہ کیا گیا۔

حکام نے کہا کہ قیدی وین جو کہ ایک پرائیوٹ ہائی لیکس وین ہے جمعہ کی شب جیسے ہی قلات منگچر کے علاقہ میں پہنچے ہیں تو وہاں سے نامعلوم مسلح افراد نے اسلحہ کے زور پر گاڑی کو روک لیا اور انہیں اپنے ہمراہ نامعلوم مقام پر لے گئے ۔

واضع رہے کہ جمعہ کی شب بلوچ عسکریت پسندوں نے منگچر میں نا کہ بندی کرکے علاقے کا پورا کنٹرول سنبھال لیا تھا۔ گاڑیوں کی چیکنگ کی اور کئی سرکاری عمارات نذر آتش کئے۔

جبکہ یہ اطلاعات بھی سامنے آئی تھیں کہ منگچر سے متصل خزینئی کے علاقے میں مرکزی شاہراہ پر بھی عسکریت پسندوں نے ناکہ بندی کرکے 4 پولیس اہلکاروں کو اسلحہ سمیت حراست میں لیکر اپنے ہمراہ لے گئے جبکہ قیدی وین سے 10 قیدیوں کو رہا کیا گیا۔

اب اس واقعہ کی ذمہ داری بی ایل اے نے قبول کرتے ہوئے کہا کہ بی ایل اے کے سرمچاروں نے خزینئی کے مقام پر مرکزی شاہراہ پر ناکہ بندی کے دوران گڈانی سے کوئٹہ جانے والے پولیس اہلکاروں کو حراست میں لیا، جو وین میں قیدیوں کو لے جا رہے تھے۔

بیان میں کہا گیا کہ سرمچاروں نے اے ایس آئی غلام سرور سمیت 5 اہلکاروں کو اسلحہ سمیت حراست میں لیا، جبکہ 10 قیدیوں کو رہا کر دیا۔

بی ایل اے ترجمان کہنا ہے کہ مذکورہ پولیس اہلکاروں پر بلوچ قومی عدالت میں کارروائی جاری ہے، جو ان کی رہائی یا سزا کے حوالے سے فیصلہ سنائے گی۔

Share This Article