بلوچستان کے قلات کے علاقے منگچر سے گڈانی جیل سے قتل سزائے موت اور منشیات کے 10قیدیوں کو کوئٹہ منتقل کرنے والی وین پولیس اہلکاروں سمیت قلات منگچر سے تاحال لاپتہ ہے۔
آخری اطلاعات تک قیدی اور پولیس اہلکار بازیاب نہ ہو سکے تھے۔
اس حوالے سے بتایا جاتا ہے کہ جمعہ کی صبح کو سینٹرل جیل گڈانی سے 10قیدیوں جن میں ایک قیدی سزائے موت کا سزا یافتہ ایک منشیات کے مقدمے میں سزایافتہ اور 8قیدی منشیات کے مقدمات میں انڈر ٹرائل قیدی سوارتھے کو کوئٹہ ہداجیل منتقل کرنے کیلئے حب پولیس کے سب انسپکٹر انور بلوچ ،اے ایس آئی غلام سرور ،سپاہی شبیر احمد ،فراز احمد حوالدار،محمد اقبال شیخ سپاہی اور محمدناصر سپاہی کی نگرانی میں روانہ کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق قیدی وین جو کہ ایک پرائیوٹ ہائی لیکس وین ہے جمعہ کی شب جیسے ہی قلات منگچر کے علاقہ میں پہنچے ہیں تو وہاں سے نامعلوم مسلح افراد نے اسلحہ کے زور پر گاڑی کو روک لیا اور انہیں اپنے ہمراہ نامعلوم مقام پر لے گئے ۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ تمام قیدیوں کوعسکریت پسندوں چھوڑ دیا جبکہ پولیس افسران اور اہلکاروں کا آخری اطلاعات آنے تک کوئی سراغ نہیں مل سکا ۔
واضع رہے کہ جمعہ کی شب عسکریت پسندوں نے منگچر میں نا کہ بندی کرکے علاقے کا پورا کنٹرول سنبھال لیا تھا۔ گاڑیوں کی چیکنگ کی اور کئی سرکاری عمارات نذر آتش کئے۔
جبکہ یہ اطلاعات بھی آئی تھیں کہ منگچر سے متصل خزینئی کے علاقے میں مرکزی شاہراہ پر بھی عسکریت پسندوں نے ناکہ بندی کرکے 4 پولیس اہلکاروں کو اسلحہ سمیت حراست میں لیکر اپنے ہمراہ لے گئے جبکہ قیدی وین سے 10 قیدیوں کو رہا کیا گیا۔
منگچر واقعہ کی ذمہ داری تاحال کسی تنظیم نے قبول نہیں کی ہے۔