بلوچستان کے ساحلی شہر اور ضلع گوادر کے تحصیل پسنی سے مزید 2 نوجوانوں کو پاکستانی فورسز نے جبری طور پر لاپتہ کردیا ہے ۔
دونوں کی شناخت عثمان بلوچ اور وارث مومن کے ناموں سے ہوگئی ہے۔
واضع رہے کہ اس سے قبل عامر خان بلوچ نامی ایک نوجوان کی کی جبری گمشدگی رپورٹ ہوئی تھی۔
پسنی سے ہمیں ملنے والی اطلاعات کے مطابق گذشتہ شب فورسز نے 3 تین نوجوان جبری گمشدگی کا نشانہ بنائے ۔
عثمان بلوچ اور عامر بلوچ کو حجام کی دوکان سے اُٹھایا گیا جبکہ وارث مومن نامی نوجوان کو دوران ڈیوٹی آر ایچ سی اسپتال سے اُٹھایا گیا۔
عامر خان بلوچ ولد داد بخش اور عثمان بلوچ ولد عبدالغنی کو گزشتہ شب پسنی میں ایک حجام کی دوکان سے جبری گمشدگی کا نشانہ بنایا گیا۔
دونوں کی فیملی نے بتایا کہ دونوں نوجوانوں کو کام کے دوران اُٹھایا گیا جبکہ ایک وارث مومن نامی نوجوان جو سردشت کا رہائشی بتایا جاتا ہے اُسے دوران ڈیوٹی آرایچ سی پسنی سے اُٹھایا گیا۔
مذکورہ لاپتہ نوجوانوں کی فیملی نے حکام بالا سے اُُنکی رہائی کا مطالبہ کیا ہے اور کہا کہ ان نوجوانوں کا کسی بھی غیرقانونی سرگرمیوں سے کوئی واسطہ نہیں ہے جبکہ عامر بلوچ ایک طالب علم ہے۔