بلوچستان کے علاقے پسنی سے ایک طالب علم کو پاکستانی فورسز نے جبری طور پر لاپتہ کردیا جبکہ پنجگور سے ایک لیویز اہلکار کوقتل کرکے لاش ویرانے میں پھینک دی گئی ۔
ضلع گوادر کے تحصیل اور ساحلی شہر پسنی سے گذشتہ شام 7 بجے فورسز نے نائی کی دکان سے ایک کمسن نوجوان کو جبری طور پر اُٹھا کر نامعلوم مقام پر منتقل کردیا ہے۔
مذکورہ نوجوان کی شناخت عامرخان ولد داد بخش کے نام سے ہوئی ہے جو کہ فرسٹ ائیر کا طالب علم بتایا جارہاہے۔
واضع رہے کہ بلوچستان میں طالب علموں کی جبری گمشدگیوں میں ہوشربا اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے ۔اور ان طالب علم کو زیادہ ترنشانہ بنایا جارہا ہے جو کمسن ہیں ۔
دوسری جانب ضلع پنجگور میں نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کر کے ایک لیویز اہلکار کو قتل کر دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق مقتول کی شناخت حسن جان ولد یار محمد سکنہ سریکوران کے طور پر ہوئی ہے۔
لاش سی پیک روڈ پر ائیرپورٹ کے قریب سے برآمد کی گئی۔
لاش پر گولیوں، تیز دھار آلے اور تشدد کے نشانات تھے۔
پولیس کو صبح 8 بجے اطلاع ملی کہ ائیرپورٹ روڈ پر ایک شخص کی لاش پڑی ہے۔
لاش کو سول ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں اس کی شناخت لیویز اہلکار حسن جان کے طور پر کی گئی۔تاہم تاحال قتل کی وجوہات معلوم نہیں ہو سکیں۔