پسنی میں آئی ایس آئی افسر کو ہلاک کرنے کی ذمہ داری قبول کرتے ہیں ، بی ایل اے

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

بلوچ لبریشن آرمی کے ترجمان جیئند بلوچ نے پسنی میں آئی ایس آئی افسر کو ہلاک کرنے کی ذمہ داری قبول کرلی۔

ترجمان نے کہا کہ بلوچ لبریشن آرمی کے سرمچاروں نے پسنی میں پاکستانی خفیہ ادارے آئی ایس آئی کے ایک کارندے کو ہلاک کر دیا، جبکہ مزید تین مختلف کارروائیوں میں قابض پاکستانی فوج، پولیس اور سیندک پروجیکٹ کی گاڑیوں کو نشانہ بنایا اور مرکزی شاہراہ پر ناکہ بندی کی۔

انہوں نے کہا کہ بلوچ لبریشن آرمی کے سرمچاروں نے گزشتہ شب گوادر کے علاقے پسنی شہر میں ایک انٹیلی جنس بیسڈ حملے میں قابض پاکستان کے خفیہ ادارے انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) کے افسر محمد نواز ولد محمد اعظم، ساکن حکیم والا، نزد چورنگی جوہرآباد، خوشاب (پنجاب) کو اس وقت نشانہ بنایا جب وہ بھیس بدل کر نام نہاد ڈیتھ اسکواڈ کے کارندوں کے ہمراہ گاڑی میں سفر کر رہا تھا۔ دھماکے میں ڈیتھ اسکواڈ کا ایک کارندہ، سلمان ولد منیر احمد سکنہ ببّر شور، پسنی، ہلاک ہو گیا، جبکہ ایک اور کارندہ شاہ نظر زخمی ہوا اور ان کی گاڑی مکمل طور پر تباہ ہو گئی۔

بیان میں کہا گیا کہ مذکورہ آئی ایس آئی اہلکار گوادر میں تعینات تھا جس پر بی ایل اے کے انٹیلی جنس ونگ “زراب” کی مسلسل نظر تھی۔ گزشتہ شب جب یہ کارندہ براستہ پسنی سفر کر رہا تھا تو سرمچاروں نے پسنی شہر میں شام سات بجے مسکان چوک قبرستان کے قریب اسے ریموٹ کنٹرول دھماکے میں نشانہ بنایا۔ پسنی شہر میں مذکورہ اہلکار کو نام نہاد ڈیتھ اسکواڈ کا سرغنہ بالاچ سہولت فراہم کر رہا تھا۔

ترجمان نے کہا کہ بلوچ لبریشن آرمی کے سرمچاروں نے گزشتہ روز زامران کے علاقے جمکی تنک میں قابض پاکستانی فوج کے اہلکاروں کو اسنائپر حملے میں نشانہ بنایا، جس میں ایک دشمن اہلکار موقع پر ہلاک ہو گیا۔

انہوں نے کہا کہ اسی طرح بی ایل اے کے سرمچاروں نے گزشتہ روز قلات کے علاقے منگچر میں خزینئی کے مقام پر کوئٹہ-کراچی مرکزی شاہراہ پر ناکہ بندی کر کے اسنیپ چیکنگ کی۔ اس دوران سرمچاروں نے سیندک پروجیکٹ کی گاڑیوں کو نشانہ بنایا۔

بیان میں کہا گیا کہ ایک اور کارروائی میں بلوچ لبریشن آرمی کے سرمچاروں نے اتوار اور پیر کی درمیانی شب بولان کے علاقے ڈھاڈر میں پولیس لائن پر دستی بم حملہ کیا۔

آخر میں ترجمان نے کہا کہ بلوچ لبریشن آرمی ان تمام حملوں کی ذمہ داری قبول کرتی ہے۔ قابض پاکستانی فوج اور ان کے شراکت داروں پر ہمارے حملے شدت کے ساتھ جاری رہیں گے۔

Share This Article