گوادر: لیویز فورس کے 163 اہلکاروں کا پولیس جوائن کرنے سے انکار

ایڈمن
ایڈمن
4 Min Read

بلوچستان کے ساحلی شہر و سی پیک مرکز گوادر میں لیویز فورس کے 163 اہلکاروں نے پولیس جوائن کرنے سے انکار کردیا ہے۔

انکارکرنے والے اہلکاروں کو ڈپٹی کمشنرگوادر نے 3 دن کی آخری مہلت دے دی ہے کہ متعلقہ پولیس تھانوں میں جاکر رپورٹ کر یں ۔

پاکستانی عسکری حکام کی ایما پر کٹھ پتلی حکومت بلوچستان کی جانب سے لیویز فورس کو پولیس میںضم کرنے کے فیصلے کے بعد بی ایریا کو اے ایریامیں ضم کرنے کاعمل شروع ہوچکا ہے۔

جبکہ بی ایریا کو اے ایریا میں ضم کردینے کے بعد گوادر سے تعلق رکھنے والے163لیویز اہلکاروں نے ابھی تک پولیس جوائن نہیں کی ہے۔

دوسری جانب ڈپٹی کمشنر گوادرنے پولیس جوائن نہ کرنے والے لیویز اہلکاروں کو آخری وارننگ دے دی اور کہاکہ وہ تین دن کے اندراندر متعلقہ پولیس تھانوں میں جاکر رپورٹ کریں بصورت دیگر سخت کارروائی کا سامنا کرنے کے لیئے تیار رہیں۔

ڈپٹی کمشنر گوادر حمود الرحمٰن نے ایک اہم اعلامیہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ لیویز فورس کے وہ 163 اہلکار جنہوں نے تاحال پولیس فورس میں شمولیت اختیار نہیں کی، اُنہیں عوامی نمائندوں، معتبرینِ علاقہ اور سیاسی و سماجی شخصیات کی درخواستوں پر آخری بار تین دن کی مہلت دی جا رہی ہے۔

ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ یہ اہلکار آج سے لے کر جمعرات 24 اپریل تک اپنی جوائننگ رپورٹ متعلقہ حکام کو پیش کریں تاکہ ان کی تنخواہیں بحال کی جا سکیں مقررہ مہلت کے بعد کوئی بھی تاخیر یا عذر قابلِ قبول نہیں ہوگا اور ایسے تمام اہلکاروں کے خلاف سخت ترین قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

انہوں نے واضح کیا کہ ضلعی انتظامیہ اور حکومت کی جانب سے بارہا مواقع دینے کے باوجود شمولیت نہ کرنے والے اہلکاروں کے خلاف اب مزید رعایت ممکن نہیں۔ تمام اہلکاروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اس آخری موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے فوری طور پر اپنی ذمہ داریاں سنبھالیں۔

ضلع خضدار کےمتعدد علاقوں میں لیویز فورس کو باقاعدہ پولیس میں ضم کردیا گیا ہے اور لیویز تھانے پولیس کے حوالے کردیئے گئے ہیں۔

یاد رہے کہ گذشتہ روزبلوچستان میں ٹرینوں کی سکیورٹی ڈیوٹی سے غیرحاضری اور حکم عدولی پر لیویز فورس کے 15اہلکاروں کو ملازمت سے برطرف کر دیا گیا ہے۔

سرکاری حکم نامے کے مطابق برطرف کیے گئے اہلکاروں کا تعلق بلوچستان کے اضلاع سبی، سوراب، خضدار، کیچ(تربت)اور پنجگور سے ہے جو بلوچستان لیویز فورس کے سپیشل سوشیو اکنامک پروٹیکشن یونٹ (SSPEU)اور سی پیک ونگ سے وابستہ تھے۔

برطرف اہلکاروں کو کوئٹہ سے جعفرآباد تک علاقوں میں ٹرینوں اور ریلوے ٹریک کی سکیورٹی ڈیوٹی کے لیے تعینات کیا گیا تھا تاہم انہوں نے اطلاع اور جواز پیش کیے بغیر نہ صرف اپنی ڈیوٹی سے غیرحاضری کی بلکہ اعلیٰ حکام کے احکامات کی خلاف ورزی بھی کی۔

واضع رہے کہ بلوچستان میں سیکورٹی فورسز پر بلوچ عسکریت پسندوں کے منظم وخوفناک حملوں کے پیش نظر حکومت نے لیویز فورسز کو پولیس میں ضم کرنے کے ااعلان کیا ہے ۔ضلع خضدار میں اس پر عملدرآمد شروع ہوچکا ہے۔

بلوچ عسکریت پسندوں  کے تواتر کے ساتھ ٹارگیٹڈ خوفناک حملوں میں ملٹر ی فورسزکی بڑے پیمانے پرجانی نقصانات پرلیویز کو پولیس میں ضم کرکے پولیس کو فوجی آپریشنز میں فرنٹ فورس کے طور پررکھنے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے تاکہ ملٹری فورسز کی جانی نقصانات کو کم کیا جاسکے۔

Share This Article