ایران میں جاری جنگ کے باعث مشرقِ وسطیٰ کے سفر اور سیاحت کے شعبے کو یومیہ کم از کم 600 ملین ڈالر (448 ملین پاؤنڈ) کا نقصان ہو رہا ہے۔
نقصان کا یہ تخمینہ ورلڈ ٹریول اینڈ ٹورزم کونسل (ڈبلیو ٹی ٹی سی) نے لگایا ہے۔
ادارے کے مطابق نقصان کی بڑی وجہ فضائی سفر میں شدید رکاوٹ کے باعث بین الاقوامی سیاحوں کی آمد و رفت میں کمی کا ہونا ہے۔
یاد رہے کہ ایران اور امریکہ اسرائیل کی جنگ کے باعث خطے کے بڑے حصے کی فضائی حدود بند ہے اور صرف محدود تجارتی پروازیں چل رہی ہیں۔
ڈبلیو ٹی ٹی سی نے جنگ سے قبل پیش گوئی کی تھی کہ 2026 میں مشرقِ وسطیٰ میں بین الاقوامی سیاحوں کے اخراجات تقریباً 207 ارب ڈالر تک پہنچ جائیں گے۔
ادارے کی صدر اور سی ای او گلوریا گیورا نے کہا کہ سفر اور سیاحت سب سے زیادہ مستحکم شعبوں میں سے ایک ہے اور تاریخ بتاتی ہے کہ یہ شعبہ جلد بحال ہو سکتا ہے، خاص طور پر جب حکومتیں مسافروں کو ہوٹل سہولت یا وطن واپسی میں مدد فراہم کریں۔
ان کا کہنا تھا کہ ماضی کے بحرانوں کے تجزیے سے ظاہر ہوتا ہے کہ سکیورٹی سے متعلق واقعات کے بعد سیاحت سب سے تیزی سے بحال ہوتی ہے بشرطیکہ حکومتیں اور صنعت مل کر مسافروں کا اعتماد بحال کریں۔