سلامتی کونسل میں خلیجی ریاستوں پر ایرانی حملے روکنے کی قرارداد منظور

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں خلیجی ممالک کے اس مسودے کو قرارداد کے لیے تاریخ میں سب سے زیادہ حمایت ملی ہے جس میں انھوں نے ایرانی حملوں کو روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔

اس قرارداد کی 135 ممالک نے تائید کی تاہم روس اور چین نے اس میں حصہ نہیں لیا۔

دوسری جانب ایران نے خلیجی مسودے کی حمایت کرنے والے ممالک پر الزام لگایا کہ انھوں نے اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے تحفظ پر سیاسی مفادات کو ترجیح دی ہے۔ ایران نے اسے کونسل کے ریکارڈ پر ایک داغ قرار دیا ہے۔

قرارداد کو پیش کرتے ہوئے بحرین نے موقف اختیار کیا کہ یہ صرف علاقائی معاملہ نہیں بلکہ عالمی استحکام اور توانائی کی سلامتی کے لیے خلیج کی اہمیت کا اعتراف ہے۔

امریکی مندوب نے اس موقع پر کہا کہ ایران کی حکمتِ عملی، جس میں وہ انتشار پھیلاتا اور پڑوسیوں کو یرغمال بناتا ہے، واضح طور پر ناکام ہو گئی ہے۔

تاہم روس اور چین نے ووٹ میں حصہ نہ لینے کا فیصلہ کیا کیونکہ ان کے مطابق قرارداد تنازع کے بنیادی اسباب اور مجموعی تصویر کو متوازن انداز میں پیش نہیں کر رہی۔

اس قرارداد کے متن میں امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر فضائی حملوں کا ذکر نہیں تھا، جنھیں اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے بھی چارٹر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

روس نے خلیجی ممالک کے اس دعوے پر بھی شکوک ظاہر کیے کہ ان کی زمین ایران پر حملوں کے لیے استعمال نہیں ہو رہی۔ بحرین نے اس پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ خلیجی ممالک کبھی بھی حملوں کے لیے استعمال نہیں ہوئے۔

ماسکو کے متبادل مسودے میں تمام فریقوں سے لڑائی روکنے کی اپیل کی گئی تھی تاہم یہ مسودہ مطلوبہ ووٹ حاصل نہ کر سکا۔

Share This Article