اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں خلیجی ممالک کے اس مسودے کو قرارداد کے لیے تاریخ میں سب سے زیادہ حمایت ملی ہے جس میں انھوں نے ایرانی حملوں کو روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔
اس قرارداد کی 135 ممالک نے تائید کی تاہم روس اور چین نے اس میں حصہ نہیں لیا۔
دوسری جانب ایران نے خلیجی مسودے کی حمایت کرنے والے ممالک پر الزام لگایا کہ انھوں نے اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے تحفظ پر سیاسی مفادات کو ترجیح دی ہے۔ ایران نے اسے کونسل کے ریکارڈ پر ایک داغ قرار دیا ہے۔
قرارداد کو پیش کرتے ہوئے بحرین نے موقف اختیار کیا کہ یہ صرف علاقائی معاملہ نہیں بلکہ عالمی استحکام اور توانائی کی سلامتی کے لیے خلیج کی اہمیت کا اعتراف ہے۔
امریکی مندوب نے اس موقع پر کہا کہ ایران کی حکمتِ عملی، جس میں وہ انتشار پھیلاتا اور پڑوسیوں کو یرغمال بناتا ہے، واضح طور پر ناکام ہو گئی ہے۔
تاہم روس اور چین نے ووٹ میں حصہ نہ لینے کا فیصلہ کیا کیونکہ ان کے مطابق قرارداد تنازع کے بنیادی اسباب اور مجموعی تصویر کو متوازن انداز میں پیش نہیں کر رہی۔
اس قرارداد کے متن میں امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر فضائی حملوں کا ذکر نہیں تھا، جنھیں اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے بھی چارٹر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
روس نے خلیجی ممالک کے اس دعوے پر بھی شکوک ظاہر کیے کہ ان کی زمین ایران پر حملوں کے لیے استعمال نہیں ہو رہی۔ بحرین نے اس پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ خلیجی ممالک کبھی بھی حملوں کے لیے استعمال نہیں ہوئے۔
ماسکو کے متبادل مسودے میں تمام فریقوں سے لڑائی روکنے کی اپیل کی گئی تھی تاہم یہ مسودہ مطلوبہ ووٹ حاصل نہ کر سکا۔