اقوام متحدہ کے بچوں کے فنڈ کے ادارے (یونیسیف) نے کہا ہے کہ مشرق وسطی میں تنازع خطے کے لاکھوں بچوں کے لیے تباہ کن بن چکا ہے۔
یونیسیف نے ایک پریس ریلیز میں کہا ہے کہ 28 فروری کو ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے پہلے حملے کے آغاز کے بعد سے اب تک 1100 سے زائد بچے ہلاک یا زخمی ہو چکے ہیں۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ان میں 200 بچے ایران میں، 91 بچے لبنان میں، چار بچے اسرائیل میں اور ایک بچہ کویت میں مارا گیا۔
بیان میں زور دیا گیا کہ ’بچوں کو مارنے اور معذور کرنے، یا ان کے لیے ضروری خدمات کو تباہ اور ان میں خلل ڈالنے کا کوئی بھی جواز نہیں بنتا۔‘
یونیسیف نے اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل، انتونیو گوتیرس سے ’لڑائی ختم کرنے اور سفارتی مذاکرات میں مشغول ہونے‘ کے مطالبے کو دہرانے کی اپیل کی۔
اس اعلامیے میں فریقین پر زور دیا گیا کہ ’شہریوں کو کم سے کم نقصان پہنچانے کے لیے جنگ کے ذرائع اور طریقوں کے انتخاب میں تمام ضروری احتیاط برتیں، بشمول دھماکہ خیز ہتھیاروں کے استعمال سے گریز کریں جو بچوں کو سب سے زیادہ متاثر کرتے ہیں۔‘