بلوچ یکجہتی کمیٹی کا فسطائیت کے خلاف منظم واجتماعی جدوجہد کی اپیل

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

بلوچ یکجہتی کمیٹی نے ایک نیا پمفلٹ جاری کیا ہے جس میں بلوچستان میں جاری سیاسی جبر، جبری گمشدگیوں اور عوامی قیادت پر کریک ڈاؤن کو فسطائی حکمت عملی قرار دیا گیا ہے۔

پمفلٹ میں کہا گیا ہے کہ جب کوئی جابر نظام اپنے ظلم کو برقرار رکھنے کے جواز کھو دیتا ہے تو وہ فسطائیت کا راستہ اختیار کرتا ہے، جس کا مقصد عوامی سیاست، شعور اور مزاحمت کو دبانا ہوتا ہے۔

پمفلٹ کے مطابق بلوچستان میں سیاسی کارکنان کو مجرم قرار دینا، طلبہ سیاست پر پابندیاں لگانا، قیادت کو قید رکھنا اور جبری گمشدگیوں کے ذریعے خاموش کروانے کی کوششیں اسی فسطائی تسلط کا حصہ ہیں۔ اس میں نشاندہی کی گئی ہے کہ حقیقی عوامی قیادت کو کمزور کر کے ایسے عناصر کو آگے لایا جاتا ہے جو عوام کی نمائندگی نہیں بلکہ جبر کے نظام کو مضبوط کرتے ہیں۔

بلوچ یکجہتی کمیٹی نے کہا کہ فسطائیت تین طریقوں سے اپنا تسلط قائم کرتی ہے۔ سیاست کو غیر قانونی قرار دے کر کارکنان کو مجرم بنانا۔ گرفتاریوں، تشدد اور دھمکیوں کے ذریعے خوف کا ماحول پیدا کرنااور حقیقی قیادت کو ختم کر کے عوام کو تقسیم کرنا اور کرائے کے عناصر کو مسلط کرنا۔

پمفلٹ میں عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ خوف کو مسترد کریں، اتحاد کو اپنی قوت بنائیں اور پرامن مگر ثابت قدم مزاحمت کو جاری رکھیں۔ کمیٹی نے زور دیا کہ یہ جدوجہد نفرت یا انتقام کی نہیں بلکہ انصاف، انسانی وقار اور قومی بقا کی جدوجہد ہے۔

آخر میں پمفلٹ میں کہا گیا ہے کہ خاموشی اختیار کرنا نسلوں کو مٹنے کے مترادف ہے، اس لیے بلوچ عوام کا قومی فریضہ ہے کہ وہ اپنے بقا کی جدوجہد کو آگے بڑھائیں۔

Share This Article