وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے ترجمان نے کہا ہے کہ 16 اپریل کو بلوچستان کے ضلع پنجگور کے علاقے پروم سے فورسز نے ظریف احمد، عتیق احمد، اصغر بلوچ، ماجد بلوچ، عبدالرحیم اور سیف اللہ کو غیر قانونی طریقے سے حراست میں لینے کے بعد نامعلوم مقام پر منتقل کردیا۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ اقدام باعث تشویش اور ماورائے آئین ہے، اس لیے ہم حکومت اور ملکی اداروں کے سرہراہوں سے اپیل کرتے ہیں کہ اگر پروم سے جبری لاپتہ نوجوانوں پر کوئی الزام ہے توانہیں منظر عام پر لاکر عدالت میں پیش کیا جائے، بےقصور ہیں تو فوری طور پر ان کی رہائی کو یقینی بنا کر انکے خاندان کو کرب و اذیت سے نجات دلائی جائے۔
واضع رہے کہ آج پنجگور کے علاقے پروم میں یہ اطلاعات سامنے آئی تھیں کہ فورسز نے فوجی جارحیت کے دوران گھروں میں موجود خواتین و بچوں کو شدید کا تشدد کا نشانہ بنانے اور لوٹ مار کے بعد متعدد افراد کو جبری طور پر لاپتہ کیا تھا۔
مقامی ذرائع کا کہنا تھا کہ فورسز نے پروم کے علاقے جائین کو گھیرے میں لے کر گھر گھر تلاش کے دوران خواتین و بچوں کو شدید تشدد کا نشانہ بنایا ہے جبکہ گھروں موجود موبائل فون سمیت قیمتی سامان کا صفایا کردیا ہے۔
ذرائع کا کہنا تھا کہ اس دوران فورسز نے متعدد افراد کو حراست میں لیا ہے جن میں دو کی شناخت سیف اللہ ولد دلمراد اور عبدالرحیم ولد منیر کے نام ےس ہوگئی تھی۔