مکران کوسٹل ہائی وے پر ایمرجنسی مراکز میں تعینات ڈاکٹروں کی دیگر اضلاع میں منتقلی کا فیصلہ

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

بلوچستان کے مکران کوسٹل ہائی وے پر قائم MERC 1122 کے سات ایمرجنسی مراکز سے ڈاکٹروں کی دیگر اضلاع میں منتقلی کے فیصلے نے عوامی اور سماجی حلقوں میں تشویش پیدا کر دی ہے۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ یہ شاہراہ بلوچستان کی خطرناک ترین سڑکوں میں شمار ہوتی ہے جہاں ٹریفک حادثات معمول کا حصہ ہیں، ایسے میں ایمرجنسی مراکز سے ڈاکٹروں کی عدم موجودگی انسانی جانوں کے لیے سنگین خطرہ بن سکتی ہے۔

اطلاعات کے مطابق نلینٹ، پسنی، اورماڑہ، پھور، رسملان، لیاری اور دشت کنچتی میں قائم MERC 1122 مراکز سے مجموعی طور پر 9 ڈاکٹروں کو دیگر اضلاع منتقل کیا گیا ہے۔

مقامی افراد کے مطابق ان مراکز کا بنیادی مقصد شاہراہ پر پیش آنے والے حادثات اور طبی ہنگامی حالات میں فوری طبی امداد فراہم کرنا تھا، تاہم ڈاکٹروں کی منتقلی کے بعد ایمرجنسی سروسز شدید متاثر ہوئی ہیں۔

ذرائع کے مطابق یہ ایمرجنسی مراکز 2022 سے PPHI کے زیرِ انتظام کام کر رہے تھے اور نومبر 2025 میں انہیں MERC 1122 میں ضم کیا گیا۔

شہری حلقوں نے سوال اٹھایا ہے کہ انضمام کے چند ہی ماہ بعد ڈاکٹروں کی منتقلی کیوں کی گئی، جسے وہ انتظامی کمزوری اور عوامی مفاد سے غفلت قرار دے رہے ہیں۔

عوامی نمائندوں اور سماجی کارکنوں کا کہنا ہے کہ مکران کوسٹل ہائی وے طویل فاصلوں، تیز رفتار ٹریفک اور محدود طبی سہولیات کے باعث پہلے ہی ایک حساس روٹ ہے، جہاں معمولی تاخیر بھی قیمتی جانوں کے ضیاع کا سبب بن سکتی ہے۔ ایسے میں ایمرجنسی مراکز کا ڈاکٹروں کے بغیر ہونا عوامی تحفظ کے لیے خطرناک قرار دیا جا رہا ہے۔

شہریوں نے بلوچستان حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ منتقل شدہ ڈاکٹروں کو فوری طور پر دوبارہ تعینات کیا جائے اور میکراں کوسٹل ہائی وے پر ایمرجنسی سروسز کی مکمل بحالی یقینی بنائی جائے۔

اس حوالے سے ایک متعلقہ ڈاکٹر نے تصدیق کی ہے کہ ڈاکٹروں کی منتقلی کے احکامات جاری کیے گئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ان مراکز سے وابستہ ڈاکٹروں نے متفقہ طور پر دیگر اضلاع میں تعیناتی کے بجائے استعفیٰ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ تاہم اس معاملے پر تاحال MERC 1122 یا بلوچستان حکومت کی جانب سے کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔

Share This Article