سندھ حکومت کا کہنا ہے کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کی رہنما سمی دین بلوچ کو دفعہ 144 کی خلاف ورزی پر گرفتار کیا گیا ہے۔
ایک بیان میں سندھ حکومت کی ترجمان سعدیہ جاوید کا کہنا تھا کہ ’شہر میں تھریٹ الرٹ تھا اور کمشنر نے دفعہ 144 نافذ کیا تھا جس کی خلاف ورزی کی گئی تھی۔ اس لیے یہ گرفتاریاں عمل میں لائی گئی ہیں۔‘ جب ان سے سوال کیا گیا کہ کل پی پی نے پانی کے مسئلے پر احتجاج کا اعلان کیا ہے تو کیا اس پر بھی پابندی ہوگی تو انھوں نے کہا کہ ’یہ پابندی ہر جماعت پر ہوگی۔‘
واضع رہے کہ آج دفعہ 144 کے نام پر کراچی پریس کلب سامنے بی وائی سی کے احتجاج پر کریک ڈائون کر کے خواتین و مرد سمیت متعدد افراد گرفتار کیا گیا جبکہ اسی دوران، کراچی پریس کلب کے باہر اور دیگر مقامات پر دو الگ الگ مخالف ریلیاں بھی نکالی گئیں جن میں شرکاء نے بی وائی سی اور بلوچ لبریشن آرمی کے خلاف نعرے بازی کی اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر بی ایل اے اور بی وائی سی کا را سے تعلق جیسے الزامات تحریر تھے۔
کراچی صحافیوں کے مطابق سندھ پولیس کی جانب سے ان مخالف ریلیوں کو نہ صرف اجازت دی گئی بلکہ انھیں مکمل سہولیات بھی فراہم کی گئیں حالانکہ شہر میں دفعہ 144 نافذ ہے جس کے تحت عوامی اجتماعات پر پابندی عائد کی گئی ہے۔
تاہم یہ واضح نہیں کہ یہ ریلیاں کس کی جانب سے منعقد کی گئیں۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی کی جانب سے جاری بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ پولیس نے احتجاجی مظاہرین پر لاٹھی چارج کیا، متعدد مظاہرین کو گرفتار کیا گیا۔
’لاٹھی چارج کے نتیجے میں متعدد خواتین اور مرد زخمی ہوئے۔ گرفتار ہونے والوں میں بلوچ یکجہتی کمیٹی رہنما لالہ وہاب، سمی دین بلوچ سمیت سول سوسائٹی ایک درجن سے زائد خواتین اور مرد شامل ہیں۔‘