پاکستان کے صوبہ سندھ کے مزکزی شہر کراچی میں بلوچ یکجہتی کمیٹی کے مرکزی رہنما سمی دین بلوچ اور ڈپٹی آرگنائزر لالہ وہاب اور وومن ڈیموکریٹک فرنٹ سندھ کی کراچی یونٹ سمیت متعدد افراد جن میں بلوچ وسندھی خواتین بھی شامل ہیںکو احتجاج پر پولیس نے کریک ڈاؤن کے دوران گرفتار کر کے نامعلوم مقام پر منتقل کردیا ہے ،ان کے بارے میں کوئی اطلاعات نہیں ہیں وہ اب تک لاپتہ ہیں ۔
یہ احتجاج بلوچستان میں نہتے مظاہرین پر کریک ڈائون ،ڈاکٹر ماہ رنگ و ساتھیوں کی ماورائے آئین گرفتاری ، فائرنگ و ہلاکتوں اور جبری گمشدگیوں کیخلاف بلوچ یکجہتی کمیٹی کی کال پر کراچی میں پریس کلب کے سامنے ہونا تھا کہ پولیس نے کراچی پریس کلب کو سیل کر دیا اور بی وائی سی کے احتجاج میں درجنوں خواتین کو گرفتار کر لیا۔
سوشل میڈیا پر جاری ویڈیو زمیں دیکھا جاسکتا ہے کہ پولیس وحشیانہ طریقے سے سمی دین بلوچ ودیگر خواتین کو تشدد کا نشانہ بناکر پولیس وین میں ڈال رہی ہے۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی کے ترجمان کے مطابق آج بی وائی سی نے ریاستی ظلم و جبری گمشدگیوں کے خلاف کراچی میں احتجاجی مظاہرہ کیا تھا۔ اس کے جواب میں پولیس نے مظاہرے کو روکنے کے لیے کراچی پریس کلب کو سیل کردیا۔ اس کے باوجود مظاہرین، جن میں خواتین کی ایک بڑی تعداد بھی شامل تھی، اپنے مطالبات کے لیے جمع ہوئے۔
بی وائی سی کے مطابق احتجاج شروع ہوتے ہی، پولیس نے کریک ڈاؤن شروع کیا، جس میں بی وائی سی کی مرکزی کمیٹی کے رہنما سمی دین اور ڈپٹی آرگنائزر لالہ وہاب سمیت درجنوں خواتین کو گرفتار کر لیاگیا۔
ترجمان بی وائی سی کا کہنا ہے کہ جبر کا یہ صریح عمل مظلوموں کو خاموش کرنے کے لیے ریاست کی مسلسل کوششوں کو نمایاں کرتا ہے۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی کے مطابق ان کی احتجاجی ریلی کو کراچی پولیس نے اجازت نہیں دی اور پولیس نے مظاہرین پر لاٹھی چارج اور گرفتاریاں کرتے ہوئے ریلی کو منتشر کردیا۔
جبکہ اسی دوران، کراچی پریس کلب کے باہر اور دیگر مقامات پر دو الگ الگ مخالف ریلیاں بھی نکالی گئیں جن میں شرکاء نے بی وائی سی اور بلوچ لبریشن آرمی کے خلاف نعرے بازی کی اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر بی ایل اے اور بی وائی سی کا را سے تعلق جیسے الزامات تحریر تھے۔
کراچی صحافیوں کے مطابق سندھ پولیس کی جانب سے ان مخالف ریلیوں کو نہ صرف اجازت دی گئی بلکہ انھیں مکمل سہولیات بھی فراہم کی گئیں حالانکہ شہر میں دفعہ 144 نافذ ہے جس کے تحت عوامی اجتماعات پر پابندی عائد کی گئی ہے۔
تاہم یہ واضح نہیں کہ یہ ریلیاں کس کی جانب سے منعقد کی گئیں۔
کراچی پریس کلب کے صحافیوں کا کہنا تھا کرانی میں ہونے والے ان واقعات نے سندھ پولیس کی جانب سے دوہرے معیار کو بے نقاب کر دیا ہے جہاں ایک طرف بلوچ یکجہتی کمیٹی کے پرامن احتجاج کو طاقت کے زور پر منتشر کیا گیا جبکہ دوسری طرف ریاستی حمایت یافتہ ریلیوں کو کھلی چھوٹ دی گئی۔
دوسری جانب عصمت رضا شاہجہاں نے کراچی میں بی وائی سی کے احتجاج پر پولیس کی کریک ڈائون کے حوالے سے سوشل میڈیا پر ایک فوری اپیل پوسٹ کی ہے جس میں کہا گیا کہ کراچی میں بی وائی سی کے احتجاج کے دوران آج سمی دین بلوچ، بی وائی سی کراچی زون کے ساتھیوں اور وومن ڈیموکریٹک فرنٹ سندھ کی کراچی یونٹ سمیت متعدد افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم کراچی کے ساتھیوں اور ہم خیال وکلاء سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ فوری طور پر تھانہ آرٹلری میدان، ڈسٹرکٹ ساؤتھ ویمن پولیس اسٹیشن، ساؤتھ زون کراچی پہنچیں ۔اب یکجہتی کا اظہار کرنے کا وقت ہے۔