پاکستان کے ریلوے حکام نے بلوچستان میں جعفر ایکسپریس پر بلوچ عسکریت پسندوں کے حملے اور ٹرین کی رکنے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ضلع سبّی میں نامعلوم مسلح افراد نے کوئٹہ سے راولپنڈی جانے والی جعفر ایکسپریس پر حملہ کیا ہے جس کے نتیجے میں ڈرائیور زخمی ہو گیا ہے۔
ریلوے ذرائع کا کہنا ہے کہ سبی کے تمام ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے اور سیکورٹی فورسز کی بھاری نفری طلب کرلی گئی ہے۔
کوئٹہ میں ریلویز کنٹرول کے سینیئر اہلکار محمد شریف نے بی بی سی اردوکو بتایا کہ نامعلوم مسلح افراد کے حملے کے باعث سبی کے قریب ٹرین رکی ہوئی ہے۔
ان کا کہنا تھا ہمیں اس وقت جو اطلاع ملی ہے اس کے مطابق اس حملے کے نتیجے میں ٹرین کا ڈرائیور زخمی ہے۔
ریلویز کنٹرول کے سینیئر اہلکار محمد شریف نے بتایا کہ ٹرین صبح کو کوئٹہ سے راولپنڈی کے لیے روانہ ہوئی تھی۔
ضلع کچھی میں ایک سینئر پولیس اہلکار نے فون پر بی بی سی کو بتایا کہ یہ حملہ ضلع سبی میں ٹنل نمبر آٹھ کے قریب ہوا ہے جس کہ وجہ سے ٹرین اس علاقے میں رکی ہوئی ہے۔
واضع رہے کہ ٹرین پر حملے کی ذمہ داری بی ایل اے نے قبول کرلی ہے ۔
ترجمان جیئند بلوچ نے کہا کہ ٹرین مکمل طور پران کے قبضے میں ہے۔ اب تک 100 زائد اہلکارجن میں فوجی ، سی ٹی ڈی ،پولیس اور آئی ایس آئی کے حاضر سروس ملازم شامل ہیں جبکہ 6 اہلکاروں کو ہلاک کیا گیا ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر ٹرین پر فوجی آپریش کی گئی تو تمام یرغمالیوں کو مار دیا جائے گا اور اس کی ذمہ دار پاکستانی فوج ہوگی۔