بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں سیکورٹی کارروائیوں سے شہری شدید متاثر ہیں،ایچ آر سی پی سالانہ پورٹ

ایڈمن
ایڈمن
4 Min Read

ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان (HRCP) نے اپنی سالانہ رپورٹ "پاکستان میں انسانی حقوق کی صورتِ حال 2025” جاری کر دی، جس میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ سال آزادیِ اظہار، قانون کی حکمرانی اور شہری آزادیوں پر شدید دباؤ رہا، جبکہ عدلیہ کی آزادی اور شفافیت کے حوالے سے بھی سنگین سوالات اٹھے۔

رپورٹ کے مطابق 2025 میں آزادیِ اظہارخصوصاً حکومتی اداروں سے سوال کرنے اور جوابدہی کا مطالبہ کرنے کے حق کو سختی سے محدود کیا گیا، جس کے نتیجے میں قانون کی حکمرانی اور بنیادی حقوق کے تحفظ پر منفی اثرات مرتب ہوئے۔

HRCP نے نشاندہی کی کہ اختلافِ رائے کو دبانے کے لیے قانونی و انتظامی طریقہ کار کا استعمال بڑھ گیا۔ صحافیوں، سیاسی کارکنوں، سماجی کارکنوں اور وکلاء کو بڑے پیمانے پر نشانہ بنایا گیا، جن کے خلاف الیکٹرانک جرائم کے قانون (PECA)، بغاوت اور انسدادِ دہشت گردی کے قوانین کے تحت کارروائیاں کی گئیں۔ دھمکیوں، جبری گمشدگیوں اور نقل و حرکت پر پابندیوں کی اطلاعات نے خوف اور خود ساختہ سنسرشپ کا ماحول پیدا کیا، جس سے عوامی مباحثہ محدود اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں مزید اوجھل ہو گئیں۔

رپورٹ میں وفاق اور بلوچستان میں انسدادِ دہشت گردی ایکٹ 1997 میں کی گئی ترامیم پر بھی تشویش ظاہر کی گئی، جن کے تحت قانون نافذ کرنے والے اداروں اور سکیورٹی فورسز کو کسی بھی شخص کو تین ماہ تک بغیر الزام یا عدالتی نگرانی کے حراست میں رکھنے کا اختیار مل گیا ہے۔ HRCP کے مطابق یہ ترامیم شہری آزادی، منصفانہ ٹرائل اور بلاجواز حراست سے تحفظ جیسے بنیادی حقوق کو کمزور کرتی ہیں۔

عدلیہ کی آزادی میں کمی کو بھی رپورٹ کا اہم نکتہ قرار دیا گیا۔ 27ویں آئینی ترمیم کے بعد عدالتی تقرریوں کے عمل میں انتظامی اثر و رسوخ بڑھنے پر تشویش ظاہر کی گئی۔ 2025 میں کئی عدالتی فیصلوں نے جمہوری عمل کو مزید محدود کیا، جن میں عام شہریوں کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل اور 2024 میں پاکستان تحریکِ انصاف کی جیتی ہوئی مخصوص نشستوں سے محرومی جیسے اقدامات شامل ہیں، جنہوں نے شفافیت اور اختیارات کی علیحدگی کے اصول پر سوالات اٹھائے۔

سکیورٹی کی بگڑتی ہوئی صورتِ حال کے باعث انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں بھی بڑھیں۔ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں عسکریت پسندی اور جوابی کارروائیوں کے نتیجے میں شہریوں اور قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کی بڑی تعداد ہلاک ہوئی۔ جبری گمشدگیاں، ماورائے عدالت ہلاکتیں اور اجتماعی سزائیں جاری رہیں، جبکہ خواتین، بچوں، مذہبی اقلیتوں اور خواجہ سرا افراد سمیت کمزور طبقات کو تشدد اور امتیازی سلوک کا سامنا رہا۔ کان کنوں اور صفائی کے کارکنوں کے حادثات میں بھی کوئی نمایاں کمی نہ آ سکی۔ گلگت بلتستان میں موسمیاتی آفات کے باعث جانی و مالی نقصان ہوا، لیکن حکومتی ردعمل زیادہ تر ہنگامی نوعیت کا رہا۔

رپورٹ میں چند مثبت پیش رفتوں کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ "نیشنل کمیشن فار مائنارٹیز ایکٹ” کا نفاذ مذہبی اقلیتوں کے تحفظ کے لیے اہم قدم قرار دیا گیا۔ اسلام آباد اور بلوچستان میں کم عمری کی شادی کے خلاف قوانین کی منظوری کو بچوں کے حقوق کے لیے پیش رفت کہا گیا، جبکہ اعلیٰ عدلیہ کے چند فیصلوں نے خواتین کے وراثتی اور ازدواجی حقوق کو مزید مضبوط کیا۔ صوبائی سطح پر کچھ فلاحی اقدامات اور انتظامی اصلاحات بھی سامنے آئیں، تاہم ان کی رفتار کو "انتہائی سست” قرار دیا گیا۔

رپورٹ کی رونمائی کے موقع پر چیئرپرسن اسد اقبال بٹ، سابق چیئرپرسن حنا جیلانی، کو-چیئرپرسن منیزے جہانگیر، نائب چیئر نسرین اظہر اور سیکریٹری جنرل حارث خلیق نے اہم نکات پر روشنی ڈالی اور صحافیوں کے سوالات کے جواب دیے۔

Share This Article