بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کے خلاف وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز (وی بی ایم پی) کے زیر اہتمام کوئٹہ پریس کلب کے سامنے قائم احتجاجی کیمپ تنظیم کے چیئرمین نصراللہ بلوچ کی قیادت میں 6157 دن مکمل کر گیا۔
اس دوران مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے احتجاجی کیمپ کا دورہ کیا، لاپتہ افراد کے لواحقین سے اظہارِ یکجہتی کیا اور جبری گمشدگیوں کے خلاف اپنا احتجاج ریکارڈ کرواتے ہوئے لاپتہ افراد کی بازیابی کا مطالبہ کیا۔
آج جبری طور پر لاپتہ جہانزیب محمد حسنی کی والدہ اور ہمشیرہ نے احتجاجی کیمپ میں شرکت کی اور اپنا احتجاج ریکارڈ کروایا۔ اس موقع پر انہوں نے بتایا کہ 3 مئی کو جہانزیب محمد حسنی کی جبری گمشدگی کو 12 سال مکمل ہو چکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ان 12 برسوں کے دوران وہ مسلسل عدلیہ، کمیشن اور مختلف حکومتوں کے دروازے کھٹکھٹاتے رہے ہیں، جبکہ ساتھ ہی پرامن احتجاج بھی جاری رکھا ہوا ہے۔ تاہم افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ کسی بھی ادارے نے انہیں ملکی قوانین کے مطابق انصاف فراہم کرنے میں اپنا مؤثر کردار ادا نہیں کیا، جس کے باعث ان کا ریاستی اداروں پر اعتماد متزلزل ہو چکا ہے اور وہ شدید کرب اور اذیت میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔
وی بی ایم پی کے چیئرمین نصراللہ بلوچ نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ لاپتہ افراد کے لواحقین کئی سالوں سے اپنے پیاروں کی بازیابی کے لیے پرامن اور آئینی جدوجہد کر رہے ہیں۔ ان کے مطالبات بھی آئینی ہیں کہ اگر ان کے پیاروں پر کوئی الزام ہے تو انہیں منظرِ عام پر لا کر ملکی قوانین کے مطابق انصاف فراہم کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ طویل پرامن جدوجہد کے باوجود نہ تو جبری گمشدگیوں کا سلسلہ رکا ہے اور نہ ہی لاپتہ افراد بازیاب ہوئے ہیں، جبکہ انصاف کی فراہمی کے لیے قائم ادارے بھی اس اہم انسانی مسئلے کے حل میں مؤثر کردار ادا کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ اس صورتحال کے باعث اہلِ بلوچستان میں اداروں کے خلاف بداعتمادی اور بے چینی بڑھتی جا رہی ہے، جو کسی بھی طور ملک کے مفاد میں نہیں۔
انہوں نے حکومت اور متعلقہ اداروں کے سربراہان سے اپیل کی کہ وہ صورتحال کی سنگینی کو سمجھتے ہوئے سنجیدہ اقدامات کریں، جہانزیب محمد حسنی سمیت تمام لاپتہ افراد کی بازیابی کو یقینی بنائیں اور جبری گمشدگیوں کے مسئلے کو ملکی قوانین کے مطابق حل کرنے کے لیے فوری اور عملی اقدامات اٹھائیں، تاکہ بلوچستان میں پائی جانے والی بے چینی اور بداعتمادی کا خاتمہ ممکن ہو سکے۔