نوشکی جھڑپ: بی ایل اے نے 3 شہید سرمچاروں کی تفصیلات جاری کردیئے

ایڈمن
ایڈمن
8 Min Read

بلوچ لبریشن آرمی ( بی ایل اے) نے بلوچستان کے علاقے نوشکی میں پاکستانی فوج کیساتھ جھڑپوں میں اپنے 3 شہید ساتھی سرمچاروں کی تفصیلات جاری کردیئے۔

ہکل میڈیا پر جاری کی گئی بیان کے مطابق بلوچ لبریشن آرمی کے سرمچاروں نے 25 اپریل سے 3 مئی کے دوران گیارہ کارروائیاں سرانجام دیں، جن میں پاکستانی فوج کے گیارہ اہلکار ہلاک ہوئے۔

ان کا کہنا تھا کہ ان حملوں میں پاکستانی فوج، معدنیات لے جانے والی گاڑیوں اور آلہ کاروں کو نشانہ بنایا گیا۔ چار آئی ای ڈی حملوں میں فوج کو شدید جانی ومالی نقصانات سے دوچار کیا گیا، جبکہ ملٹری انٹیلی جنس کے 3 اہلکاروں کو حراست میں لیا گیا۔

بیان میں کہا گیا کہ پاکستانی فوج کے ساتھ جھڑپوں میں بی ایل اے کے تین سرمچار، اسد عرف بابا درویش، شکیل الرحمان عرف شیخ عطاء اور شیہک عرف صدیق شہید ہو گئے۔

ہکل میڈیا پر جاری کی بیان کے مطابق 24 اپریل کو نوشکی میں تاڑیز کے مقام پر قابض پاکستانی فوج سے جھڑپوں میں بلوچ لبریشن آرمی کے تین سرمچار، اسد جمالدینی عرف بابا درویش، شکیل الرحمان بنگلزئی عرف شیخ عطاء اور شیہک مینگل عرف صدیق شہید ہوگئے۔ جن میں دو کا تعلق کوئٹہ کے علاقے سریاب اور ایک کا تعلق دالبندین سے تھا۔

نام: اسد جمالدینی
عرف: بابا درویش
ولد: محمد یونس
سکنہ: سریاب کوئٹہ
تعلیم: ایف ایس سی
شمولیت: 2025
محاذ: شور پارود، قلات، نوشکی
رینک: گشتی کمانڈ
شہادت: 24 اپریل 2026، نوشکی، تاڑیز

بابا درویش کے نام سے ساتھیوں کے درمیان اپنی شناخت رکھنے والے بابا درویش صرف نام کے درویش نہیں تھے، بلکہ اپنے کردار اور عملی زندگی میں بھی درویش صفت سرمچار تھے۔ وہ ساتھی سرمچاروں کے لیے مہر و محبت کا پیکر تھے اور اپنی عملی زندگی میں سادگی اختیار کیے ہوئے تھے۔ اپنے فکری ساتھیوں کے درمیان درویشی صفات کے حامل ہونے کے باوجود، جب بھی دشمن سے ان کا سامنا ہوتا یا کوئی جنگی آپریشن سرانجام دینا ہوتا، تو وہ ایک بہادر، باہمت، نڈر اور جرات مند سرمچار بن کر لڑتے اور دشمن کو دھول چٹا دیتے۔

اسی شعوری و فکری آگاہی کے ساتھ وہ اپنی عملی زندگی کو فوجی نظم و ضبط کے تحت گزارتا تھا اور شہری علاقوں میں تنظیم کی مضبوط گرفت برقرار رکھنے کے ساتھ تنظیمی موجودگی کو منظم کرنے میں اپنے ساتھی سرمچاروں کا ایک اہم سنگت تھا۔ آپریشن ہیروف فیز دوئم میں اپنی فوجی قدمات پیش کرنے کے بعد وہ تنظیم کے زیر اثر علاقوں میں تنظیمی پوزیشن کو استحکام کے ساتھ قائم رکھنے کے لیے خود کو فرنٹ لائن کے ایک سرمچار کے طور پر منوا چکا تھا۔

تنظیم نے ان کی عملی زندگی، سوچ، دلیری اور بہادری کو دیکھتے ہوئے مختصر عرصے میں ہی انہیں گشتی کمانڈ کی ذمہ داری سونپی تھی۔ انہوں نے آخری دم تک ان ذمہ داریوں کو بھرپور انداز میں نبھایا۔ دشمن فوج اور ان کے کاسہ لیسوں کے ساتھ دوبدو لڑائی میں وطن کے دفاع اور بلوچ ریاست کی بحالی کے لیے انہوں نے اپنی جان نچھاور کر کے خود کو ہمیشہ کے لیے بلوچ قومی تاریخ میں امر کر دیا۔

نام: شکیل الرحمان بنگلزئی
عرف: شیخ عطاء
ولد: عبدالکریم بنگلزئی
سکنہ: سریاب، کوئٹہ
تعلیم: ایف ایس سی
شمولیت: جون 2025
محاذ: شور پارود، قلات، نوشکی
شہادت: 24 اپریل 2026، نوشکی، تاڑیز

نوشکی کے محاذ پر اپنے ساتھی سرمچاروں کے ساتھ دشمن کا دلیری سے مقابلہ کرتے ہوئے شہادت کے عظیم مرتبے پر فائز ہونے والے سنگت شکیل الرحمان بنگلزئی نے بلوچستان کے شورپارود، قلات اور نوشکی کے محاذوں پر تنظیم کو اپنی بہترین فوجی خدمات پیش کیں اور قومی آزادی کے دفاع، دفاعی پوزیشنوں کے استحکام اور دشمن کی یلغار کے خاتمے کے لیے ایک بہادر و نڈر سرمچار کے طور پر ساتھیوں کے درمیان یاد کیے جاتے ہیں۔

وہ اپنے مزاج میں خاموش، مگر جسمانی و شعوری طور پر انتہائی مضبوط سرمچار تھے۔ وہ تنظیم کے فوجی ڈسپلن، پیشہ ورانہ معیار اور پیش قدمی کی پالیسی کو عملی شکل دینے والوں میں شامل ایک فعال سرمچار تھے، جو کمانڈ اینڈ چین کے پابند اور احکامات کی پاسداری کرنے والے سنگت تھے۔ وہ اپنے دیگر ساتھیوں کی طرح تنظیم کی علاقائی پوزیشنز کو مضبوطی سے برقرار رکھنے میں نہایت اہم کردار ادا کر رہے تھے۔

انہوں نے اپنی عملی زندگی میں ان تمام تنظیمی اصولوں اور جنگی قول کی پابندی کی، جن پر وہ فکری طور پر مطمئن ہو کر میدان جنگ میں شمولیت اختیار کر چکے تھے۔ وہ آخری دم تک انہی اصولوں پر قائم رہے اور اپنے دیگر ساتھیوں کے لیے ایک مثال قائم کی۔

نام: شیہک
عرف: صدیق
ولد: بوہر خان محمد زئی
سکنہ: دالبندین، چاغی
شمولیت: 12 جنوری 2025
محاذ: شور پارود، قلات، نوشکی
شہادت: 24 اپریل 2026، نوشکی، تاڑیز

شہید سرمچار شیہک محمد زئی عمر کے لحاظ سے چھوٹا تھا، مگر فکری بالیدگی، علمی اور شعوری سطح پر وہ اس تاریخی اور حقیقی نتیجے تک پہنچ چکا تھا کہ قبضہ گیر کے خلاف مسلح مزاحمت ہی وہ بنیادی اور آخری ہتھیار ہے جو اپنے وطن کے دفاع، قومی آزادی کے تحفظ، اور ایک آزاد ریاست کی بحالی کا ذریعہ بن سکتی ہے۔ اسی شعوری ادراک نے اسے بلوچ قومی مزاحمت کے مرکز بی ایل اے تک پہنچایا، اور وہ آخری دم تک تنظیم کے فکری، نظریاتی، اور فوجی و پیشہ ورانہ نظم و ضبط کا پابند رہا۔

انہوں نے نہایت کم عرصے میں تنظیم کے اندر ایک قابل، بھروسہ مند، پُراعتماد، بہادر اور باہمت سرمچار کے طور پر اپنی شناخت قائم کی۔ انہوں نے تنظیم کی جانب سے سونپی گئی ہر قسم کی ذمہ داری کو قبول کیا اور میدان عمل میں اسے بخوبی نبھایا۔ انہوں نے حالیہ عرصے میں شورپارود اور نوشکی کے مقامات پر تنظیم کے اہم آپریشنوں اور پیش قدمیوں میں دیگر سرمچار ساتھیوں کے ساتھ بھرپور عملی جنگی کردار ادا کیا اور تنظیمی پالیسیوں کو عملی شکل دینے میں اپنی انفرادی ذمہ داریاں پوری کیں۔

شہیک نے اپنی خدمات وطن کے لیے پیش کر کے قوم کے نوجوانوں کے لیے ایک واضح پیغام چھوڑا کہ آج انہیں اپنی قومی ذمہ داریوں کا بھرپور احساس کرنا چاہیے اور بلوچ ریاست کی بحالی کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے، کیونکہ کسی بھی قوم کا روشن مستقبل ایک ریاست کے بغیر مکمل نہیں ہو سکتا۔

تنظیم کا کہنا تھا کہ نوشکی کے محاذ پر قابض فوج سے مردانہ وار لڑتے ہوئے جامِ شہادت نوش کرنے والے بی ایل اے کے نڈر سرمچاروں، اسد جمالدینی عرف بابا درویش، شکیل الرحمان عرف شیخ عطاء اور شیہک مینگل عرف صدیق کو ان کی بے مثال قربانی اور بہادری پر سرخ سلام پیش کیا جاتا ہے۔ ان شہدا نے اپنے لہو سے مزاحمت کی جو شمع روشن کی ہے، وہ تحریکِ آزادی کے لیے مشعلِ راہ رہے گی۔ بلوچ قوم کی بقا اور حاکمیت کی یہ جنگ اپنے شہدا کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے غاصب کے مکمل انخلاء تک جاری رہے گی۔

Share This Article