عالمی یومِ صحافت کے موقع پر بلوچ نیشنل موومنٹ (BNM) کے چیئرمین ڈاکٹر نسیم بلوچ نے کہا ہے کہ پاکستان کی عالمی درجہ بندیوں میں بہتری اس وقت تک "بے معنی” ہے جب تک بلوچستان، سندھ اور خیبر پختونخوا میں آزادیِ اظہار، پریس کی آزادی اور بنیادی انسانی حقوق کی صورتحال تبدیل نہیں ہوتی۔
انہوں نے یہ بیان ایک ویڈیو بلاگ کے ری پوسٹ کے ساتھ جاری کیا، جو پاکستان کے معروف صحافی حامد میر نے پلیٹ فارم ایکس پر شیئر کیا تھا۔
حامد میر نے اپنے ویڈیو بلاگ میں ورلڈ پریس فریڈم انڈیکس 2026 اور رول آف لا انڈیکس میں پاکستان کی پوزیشن کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان اگرچہ کچھ درجہ بہتر ہوا ہے، لیکن بنگلہ دیش، سری لنکا اور بھوٹان اب بھی پاکستان سے آگے ہیں۔ ان کے مطابق رول آف لا انڈیکس میں پاکستان 130ویں نمبر پر ہے جبکہ بھارت 86ویں نمبر پر موجود ہے۔
ڈاکٹر نسیم بلوچ نے حامد میر کی اسی پوسٹ کو ری پوسٹ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی درجہ بندیوں میں بہتری اس وقت تک حقیقی نہیں ہو سکتی جب تک وہ صوبے، جہاں لوگ آزادی اور خودمختاری کی جدوجہد کر رہے ہیں، ریاستی جبر سے آزاد نہ ہوں۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر بلوچستان، سندھ اور خیبر پختونخوا آزاد ہوں تو پاکستان صرف پنجاب تک محدود رہ جائے گاتب شاید وہ بہتر درجہ بندیوں کا دعویٰ کر سکے، کیونکہ اس کی فوج ان آبادیوں کے خلاف کارروائیاں نہیں کر رہی ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ ان خطوں میں نہ آزادیِ اظہار ہے، نہ پریس کی آزادی، نہ قانون کی حکمرانی۔
ان کے مطابق صحافیوں کو خاموش کرایا جاتا ہے، قتل کیا جاتا ہے، اور آوازیں دبائی جاتی ہیں، جس کے باعث دنیا بلوچستان کی صورتحال اور وہاں جاری سنگین انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے آگاہ نہیں ہو پاتی۔
ڈاکٹر نسیم بلوچ نے کہا ہے کہ بلوچستان میں جاری صورتحال کو وہ "نسل کشی” قرار دیتے ہیں، جسے دنیا تک پہنچنے نہیں دیا جاتا۔
انہوں نے کہا کہ یہ پاکستان کی جانب سے "بنگلہ دیش کے بعد دوسری بڑی انسانی تباہی” ہے، جسے عالمی برادری تک پہنچنے سے روکا جا رہا ہے۔
عالمی یومِ صحافت کے موقع پر جاری ان بیانات نے ایک بار پھر پاکستان میں آزادیِ اظہار، صحافیوں کی سلامتی اور ریاستی جبر سے متعلق مباحثے کو اجاگر کیا ہے۔