پسنی ، تمپ اور پنجگور میں پاکستانی فورسزکی جارحیت،درجنوں افراد جبری لاپتہ، ایک قتل

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

بلوچستان کے ساحلی شہر پسنی ، تمپ اور پنجگور میں پاکستانی فورسزنے دوران جارحیت درجنوں افراد کو حراست میں لیکر جبری گمشدگی کا نشانہ بنایا جبکہ ایک شخص کے قتل ہونے کی اطلاعات ہیں۔

ضلع گوادر کے تحصیل پسنی کے علاقے شادی کور میں پاکستانی فورسز نے علاقے میں دھاوا بول کر 50 سے زائد افراد کو حراست میں لے کر لاپتہ کردیا ہے۔

جارحیت کی زد میں آنے والے علاقوں میں زرین کور، تراتی، گورستانی اور کبڈی شامل ہیں۔

دوسری جانب ضلع کیچ کے علاقے تمپ سے اطلاعات ہیں کہ آج صبح پاکستانی فوج نے کونشقلات کے مقام پر جارحیت کا آغاز کرتے ہوئے متعدد افراد کو حراست میں لیا ہے۔ جبکہ اسی دوران ایک شخص کے قتل ہونے کی بھی اطلاعات سامنے آئے ہے۔

ذرائع کے مطابق آپریشن کے دوران فائرنگ کی بھی آوازیں سنیں گئی ہے۔

دوسری جانب پنجگور میں 5 مئی 2026 کو دوپہر تقریباً 12 بجے پاکستانی فورسز، فرنٹیئر کور (ایف سی) کے اہلکاروں نے مولانا عبدالحمید مستاگ اور ناصر ہیبتان کو پروم میں قائم ایف سی کیمپ میں طلب کیا، تاہم اس کے بعد سے ان کا کوئی سراغ نہیں مل سکا۔

مقامی ذرائع اور اہلِ خانہ کے مطابق دونوں افراد مقررہ وقت پر کیمپ میں پیش ہوئے، لیکن کئی گھنٹے گزرنے کے باوجود نہ تو وہ واپس لوٹے اور نہ ہی ان کی حراست یا رہائی سے متعلق کوئی باضابطہ اطلاع جاری کی گئی۔ اہلِ خانہ نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ انہیں جبری طور پر لاپتہ کیا گیا ہے۔

Share This Article