بلوچستان کے مرکزی شہر کوئٹہ میں بولان میڈیکل کمپلیکس کے سامنے خدیجہ بلوچ کی بازیابی کے لیے جاری دھرنے کے پندرہویں روز اہلِ خانہ اور شہریوں نے ایک پُرامن ریلی نکالی، جس میں خواتین، بزرگ اور نوجوان بڑی تعداد میں شریک ہوئے۔
ریلی کے شرکا ہاتھوں میں خدیجہ بلوچ کی تصاویر، ’We Demand Answers‘ اور ’#ReleaseKhadijaBaloch‘ جیسے مطالباتی پوسٹر اٹھائے ہوئے تھے۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی کے مطابق ریلی کے شرکا نے حکام کی مسلسل خاموشی اور عدم دلچسپی پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔
مظاہرین کا کہنا تھا کہ پندرہ دن گزرنے کے باوجود انتظامیہ کی جانب سے کوئی پیش رفت سامنے نہیں آئی، جس سے خاندان کی بے چینی مزید بڑھ گئی ہے۔
ریلی میں شریک خواتین اور نوجوانوں نے کہا کہ خدیجہ بلوچ کی گمشدگی صرف ایک خاندان کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے معاشرے کی سلامتی اور انصاف کے نظام کا سوال ہے۔
مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ حکام فوری طور پر خدیجہ بلوچ کی بازیابی کے لیے اقدامات کریں۔
اہلِ خانہ نے بلوچ قوم سے اپیل کی کہ وہ اس مشکل وقت میں متحد ہو کر آواز بلند کریں اور ان کا ساتھ بنیں، تاکہ خدیجہ کی بحفاظت واپسی ممکن ہو سکے۔