بلوچستان لبریشن فرنٹ( بی ایل ایف) کے ترجمان میجر گہرام بلوچ نے میڈیا کو جاری بیان میں کہا ہے کہ بلوچستان کے علاقے رکھنی میں پاکستانی فوج اوراس کے لے پالک ریاستی ڈیتھ اسکواڈ کے ساتھ جھڑپ میں 9 کارندے ہلاک ہوئے اور متعدد زخمی ہوگئے۔ اس دوران سرفراز بگٹی کے خاص کارندے واحد بخش مسوری کوگرفتار کرلیا گیا جبکہ جھڑپ میں تنظیم کا ایک نڈر سرمچار کپٹن سلال بلوچ وطن اور اپنے ساتھیوں کی دفاع میں شہیدہوگئے۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ بلوچستان لبریشن فرنٹ کے سرمچاروں نے 2 مئی 2026 کو دن دو بجے، انتہائی خفیہ اور مصدقہ انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر رکھنی کے مقام پر ایک کامیاب کارروائی کی۔ اس کارروائی کا بنیادی ہدف واحد بخش مسوری تھا، جو سرفراز بگٹی کا خاص کارندہ تھا۔ فوجی آلہ کار واحد بخش مسوری ہمارے سرمچار ساتھیوں شاہزیب بلوچ، رسان قادر، سمیع اللّہ بلوچ اور مصطفیٰ بلوچ کی شہادت کے واقعات میں براہِ راست ملوث تھا۔ سرمچاروں نے پیشہ ورانہ حکمتِ عملی کے تحت اسے گرفتار کر کے مزید تفتیش کے لیے فوری طور پر اسے اپنے ٹھکانے پر منتقل کر دیا۔
انہوں نے کہا کہ ابتدائی تفتیش کے دوران گرفتار کارندے واحد مسوری نے اپنے جرائم کا اعتراف کرتے ہوئے علاقے میں فوجی سرپرستی میں سرگرم ڈیتھ اسکواڈ کے نیٹ ورک کے بارے میں اہم معلومات فراہم کیں۔ اس نے ڈیتھ اسکواڈ کے دیگر ارکان کی شناخت، ان کے خفیہ ٹھکانوں اور ان سہولت کاروں کے نام بھی افشا کیے جو قومی تحریک آزادی اور بی ایل ایف کے خلاف دشمن کے لیے جاسوسی اور مخبری کر رہے تھے۔
ترجمان کے مطابق واحد بخش مسوری کی گرفتاری کے بعد، اسے چھڑانے اور سرمچاروں کے کیمپ کو نشانہ بنانے کے لیے 3 مئی کی صبح 10 بجے قابض پاکستانی فوج نے ایک وسیع تر فوجی آپریشن شروع کیا۔ اس کارروائی میں فرنٹیر کور (ایف سی)، پولیس، سی ٹی ڈی (CTD)، کمانڈوز کی بھاری نفری اور ڈیتھ اسکواڈ کے سرغنہ آفتاب مسوری (سرفراز بگٹی کے بھائی) کی قیادت میں مسلح جتھوں نے مشترکہ طور پر بی ایل ایف کے کیمپ پر حملہ کردیا۔دشمن نے اس حملے میں ڈرونز، مارٹر گولوں اور جدید ترین خودکار اسلحے کا بے دریغ استعمال کیا۔
بیان میں کہا گیا کہ حملے کے آغاز پر ہی سرمچاروں نے بھرپور جوابی کارروائی کی، جس کے نتیجے میں دشمن کے ڈیتھ اسکواڈ کے 4 اہم کارندے موقع پر ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے۔ ہلاک ہونے والوں میں آفتاب بگٹی کا گن مین عصمت مسوری بھی شامل تھا۔ یہ جھڑپ مسلسل 16 گھنٹے تک جاری رہی۔ رات دو بجے تک جاری رہنے والی اس جھڑپ میں مجموعی طور پر ڈیتھ اسکواڈ کے 9 کارندے ہلاک، اور فرنٹیر کور اور پولیس کے متعدد اہلکار بھی زخمی ہوئے۔
میجر گہرام بلوچ نے کہا کہ اس معرکے کے دوران، کپٹن سنگت سلال بلوچ عرف میجر نورا ولد سہیل انور، سکنہ ڈیرہ غازی خان، کوہِ سلیمان نے دفاعی لائن سنبھالتے ہوئے دشمن کو الجھائے رکھا۔ گولی لگنے سے شدید زخمی ہونے کے باوجود انہوں نے پیچھے ہٹنے کے بجائے اپنی پوزیشن برقرار رکھی تاکہ ان کے دیگر ساتھی بحفاظت محفوظ مقامات کی طرف منتقل ہو سکیں۔ وہ اپنے ساتھی سرمچاروں کی با حفاظت نکلنے تک دشمن فورسز کو روکے رکھنے میں کامیاب ہوئے، اور اس معرکہ میں شہادت کے عظیم مرتبے پر فائز ہوگئے۔ شہید کیپٹن سلال بلوچ کی اس لازوال بہادری نے سرمچاروں کے دستے کو دشمن کے گھیرے سے نکلنے کا موقع فراہم کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ کپٹن سنگت سلال بلوچ عرف میجر نورا ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان تھے، انہوں نے بیوٹمز (BUITEMS) یونیورسٹی سے سافٹ ویئر انجینئرنگ کی ڈگری حاصل کی تھی۔ قومی غلامی کے خلاف جذبہِ آزادی سے سرشار ہو کر انہوں نے 2022 میں بلوچستان لبریشن فرنٹ میں شمولیت اختیار کی اور جولائی 2023 کو پہاڑی محاذ پر منتقل ہوئے۔ وہ جدید جنگی ہنر سے واقف ایک نڈر جنگجو تھے، جنہوں نے ناگاہو، مستونگ، دشت، کچھی، ڈھاڈر، بولان، کاہان، بارکھان اور رکھنی کے مختلف محاذوں پر آزادی کیلئے گراں قدر خدمات انجام دیں۔ ان کی مخلصی، شجاعت اور جنگی مہارت کو دیکھتے ہوئے تنظیم نے انہیں کپٹن کے عہدے پر فائز کیا تھا، جس پر وہ شہادت کے لمحے تک فائز رہے۔
ان کا کہنا تھا کہ دشمن کی بھاری نفری، فضائی نگرانی اور زمینی قوت کے باوجود، بلوچ سرمچاروں نے بہترین گوریلا جنگی حکمتِ عملی اختیار کرتے ہوئے دشمن کا گھیراؤ توڑ دیا اور اپنے تمام ساتھیوں سمیت محفوظ ٹھکانوں کی جانب منتقل ہونے میں کامیاب رہے۔ فوج، اور ڈیتھ اسکواڈ کے کرایہ کے قاتلوں سمیت دشمن کے مختلف فورسز کے اس مشترکہ آپریشن میں سرمچاروں کے ہاتھوں دشمن کو بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑا۔
آخر میں ترجمان نے کہا کہ بلوچستان لبریشن فرنٹ اس عزم کا اعادہ کرتی ہے کہ مادرِ وطن کی آزادی اور شہداء کے خون کے ایک ایک قطرے کا حساب لینے تک ہماری جدوجہد پوری قوت کے ساتھ جاری رہے گی۔ دشمن اور اس کے آلہ کار یہ بات ذہن نشین کر لیں کہ وہ اپنی بزدلانہ کارروائیوں اور ریاستی جبر سے بلوچ قومی تحریک کو دبانے میں کبھی کامیاب نہیں ہو سکتے۔ کپیٹن سنگت سلال بلوچ جیسے بہادر سپوتوں کی قربانیاں ہمارے لیے مشعلِ راہ ہیں اور ان کا مشن منزل کے حصول تک جاری رہے گا۔